روس اور یوکرین کے درمیان گیس کا معاہدہ طے پا گیا
یورپی یونین کی معاونت سے طے پانے والے ایک معاہدے کے تحت روس نے یوکرین کو سردیوں میں گیس کی فراہمی بحال کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
اس معاہدے میں اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ یورپی یونین کو یوکرین کے راستے فراہم کی جانے والی گیس کی فراہمی بھی محفوظ رہے گی۔
یورپی کمشن کے صدر ہوزے مینوئل باروسو نے اس موقعے پر کہا: ’کوئی وجہ نہیں ہے کہ یہ سردیاں میں یورپ کے لوگوں کو ٹھنڈ میں گزارنا پڑیں۔‘
یورپی یونین کے توانائی کے سربراہ گونتھر اوٹنگر نے یقین ظاہر کیا کہ یوکرین کے پاس اپنی ضرورت کی گیس خریدنے کے لیے رقم موجود ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ یوکرین اور روس کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لیے امید کی ’پہلی کرن‘ ثابت ہو سکتا ہے۔
انھوں نے کہا: ’یہ براعظم یورپ کی مشترکہ توانائی کے تحفظ کے لیے بہت اہم قدم ہے۔‘
یہ معاہدہ یورپی یونین کے عہدے داروں اور روسی اور یوکرینی وزرائے توانائی کے درمیان مہینوں کی بات چیت کے بعد طے پایا ہے۔
اس کی شرائط میں یہ شق شامل ہے کہ یورپی یونین یوکرین کی روس سے گیس کی خریداری اور اپنے واجب الادا قرضوں کی ادائیگی میں ضامن کا کردار ادا کرے گی۔
تمام پیکیج کی مالیت چار ارب 60 کروڑ ڈالر ہے، اور یہ رقم بین الاقوامی مالیاتی ادارے اور یورپی یونین کے توسط سے آئے گی