Friday, 31 October 2014

کمپیوٹرز کی دنیا میں گوگل کا تہلکہ خیز اعلان

News

کمپیوٹرز کی دنیا میں گوگل کا تہلکہ خیز اعلان

    ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک)کیا وہ وقت قریب ہے آن پہنچا ہے کہ جب کمپیوٹر بھی انسان کی طرح سوچ سمجھ اور سیکھ سکیں گے۔ذرا تصور کریں کہ آپ کہ ایک ہزار روبوٹ کو فریج میں سے کھانا نکالنا سکھائیں اور وہ خود ہی یہ بھی سیکھ جائے کہ الماری میں کتاب یا کپٹر ے کیسے نکالنے ہیں ۔ ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے ایک ایسے ہی سپر کمپیوٹر کی تیاری شروع کر دہے جو ننھے بچے کی طرح نئی نئی چیزیں خود ہی سیکھنا شروع کر دے گا۔ موجودہ جدید سے جدید کمپیوٹر کی بھی حد یہ ہے کہ وہ وہی کام کرتا سکتاہے جس کا پروگرام لکھ کر اس کی میموری میں محفوظ کیا گیاہے ۔ گوگل کا نیا کمپیوٹر ایک لحاظ سے اپنے لئے نئے پروگرام خود ہی لکھ لیا کرے گا اور پھر ان کے مطابق نئے نئے کام کرنا بھی سیکھ لے گا۔گوگل نے حال ہی میں مصنوعی ذہانت پر کام کرنے والی کمپنی ڈیپ مائنڈ تقریباً 40ارب روپے میں خریدی ہے او اس کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے ساتھ ملکر نا قابل یقین ذہانت والے کمپیوٹر کی تیاری شروع کر دی ہے ۔اس کے لیے خصوصی کوانٹم چپ بھی تیار کی جارہی ہے جس کی بدولت یہ ایک لمحے میں کھربوں کی تعداد میں فیصلے کرنے کے قابل ہو سکے گا۔گوگل ٹیم کا کہنا ہے کہ Neural turing Machineکہلانے والے نئے کمپیوٹر کی خوبی یہ ہو گی کہ یہ معلومات کو ذخیرہ کرتے وقت ان سے سیکھنے کا عمل بھی جاری رکھے گا اور یوں مستقبل کی ضرورت کے مطابق انسان کے بنائے بغیر خود سے مسئلوں کو حل کرنے کی کوشش کرے گا ۔ مثال کے طور پر اگر اس میں یہ پروگرام رکھا گیا ہے کہ جب کوئی کمرے میں نہ ہو تو بلاوجہ بجلی خرچ کرنے والے پنکھے کو بند کر دے تو عین ممکن ہو گا کہ اس سے یہ کمپیوٹر یہ بھی سیکھ لے کہ کمرے میں کسی کے موجود نہ ہونے پر بلب کو بھی بند کردینا چاہیے اور کسی کے آنے پر اسے آن کر دیا جائے۔

    RELATED POSTS