Thursday, 13 November 2014

سوشل میڈیا پر تصویریں اپ لوڈ کرنا خوبرو لڑکی کو بہت مہنگا پڑا

News

سوشل میڈیا پر تصویریں اپ لوڈ کرنا خوبرو لڑکی کو بہت مہنگا پڑا

    برمنگھم (نیوز ڈیسک) عموماً ہم فیس بک پر تصاویر اپ لوڈ کرنے سے پہلے زیادہ نہیں سوچتے، ہمارا خیال ہوتا ہے کہ یہ تصاویر محض ہمارے دوستوں اور رشتہ داروں تک محدود رہیں گی لیکن یہ سوچ برمنگھم سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ طالبہ ”گریس مار“ کو بہت مہنگی پڑی۔ 
    گریس مار کو چند روز قبل اس کی ایک دوست کی والدہ نے فون کرکے بتایا کہ اس نے ”مار“ کی تصاویر ایک فحش ویب سائٹ کے اشتہار میں دیکھی ہے۔ تحقیق پر معلوم ہوا کہ متعلقہ ویب سائٹ تنہا لوگوں کا جنسی مقاصد کیلئے صنف مخالف سے رابطہ کرانے کا کام کرتی ہے اور ”مس مار“ کی 3 تصاویر مختلف اشتہارات میں استعمال کی جارہی تھیں۔ یہ ”گریس مار“ کی فیس بک پروفائل پکچرز تھیں جو کہ متعلقہ ویب سائٹ نے حاصل کرکے اپنے اشتہار پر لگادیں۔ 
    گریس نے مقامی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقعہ سے اسے سخت شرمندگی اٹھانا پڑی تاہم اب اس نے اپنی ”پرائیویسی سیٹنگ“ تبدیل کردی ہیں اور فیسبک پر تصاویر بھی اب بہت سوچ سمجھ کر اپ لوڈ کرتی ہے۔ گریس کا کہنا ہے کہ وہ دیگر خواتین کو بھی مشورہ دینا چاہتی ہے کہ اس معاملے میں احتیاط سے کام لیں۔ بہت ساری ویب سائٹس روٹین کی تصاویر ”ایڈٹ“ کرکے انتہائی بے ہودگی سے شائع کرتی ہیں۔ بہتر ہے کہ انٹرنیٹ پر اپنی تصاویر لگانے سے اجتناب ہی کیا جائے۔

      RELATED POSTS