ملائیشین خواجہ سراﺅں کو عدالت نے ’آزادی ‘دے دی
کولا لمپور (مانیٹرنگ ڈیسک)خواجہ سرا رنگ برنگے زنانہ لباس پہننا اور میک اپ سے سجنا سنورنا بہت پسند کرتے ہیں لیکن اکثر مسلمان ملکوں میں مردوں کے لئے خواتین کے انداز و اطوار اختیار کرنا ممنوع ہے۔ملائشیا میں بھی یہ قانوناً منع تھا کہ مرد خواتین کے اطوار اپنائیں مگر ایک تاریخی مقدمے میں عدالت نے فیصلہ دے دیاہے کہ یہ قانون انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اب خواجہ سراﺅں کو زنانہ لباس پہننے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
تین ججوں پر مشتمل عدالت نے ملائشیا کے تاریخ میں پہلے دفعہ یہ فیصلہ دے دیا ہے کہ مردوں کو خواتین جیسا لباس پہنے سے روکنے کا قانون خواجہ سراﺅں کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے جو بظاہر مرد نظر آنے کے باوجودسوچ او ر رویے کے لحاظ سے خود کو صنف نازک کے زیادہ قریب محسوس کرتے ہیں ۔
جج ہشام الدین کا کہنا تھا کہ یہ قانون حقارت آمیز ، جابرانہ اور غیر انسانی ہے ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مذہب میں مردو ں کو خواتین نظرا ٓنے سے اس لئے منع کیا گیا ہے کہ ہم جنسی کی حوصلہ شکنی کی جا سکے لیکن خواجہ سرا کا معاملہ بلکل مختلف ہے کیونکہ یہ ایک طبی مسئلہ ہے اور انہیں قدرت کی طرف سے ہی ایسا بنایا گیا ہے۔
یہ فیصلہ تین خواجہ سراﺅ ںکے مقدمے میں سنایاگیا ہے جن کا مو¿قف تھاکہ ڈاکٹروں کے سرٹیفکیٹ ان کے حقیقی خواجہ سرا ہونے کی تصدیق کرچکے ہیں لہذا انہیں خواتین جیسا لباس پہننے اور میک اپ کرنے کی اجازت ہونا چاہیے
تین ججوں پر مشتمل عدالت نے ملائشیا کے تاریخ میں پہلے دفعہ یہ فیصلہ دے دیا ہے کہ مردوں کو خواتین جیسا لباس پہنے سے روکنے کا قانون خواجہ سراﺅں کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے جو بظاہر مرد نظر آنے کے باوجودسوچ او ر رویے کے لحاظ سے خود کو صنف نازک کے زیادہ قریب محسوس کرتے ہیں ۔
جج ہشام الدین کا کہنا تھا کہ یہ قانون حقارت آمیز ، جابرانہ اور غیر انسانی ہے ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مذہب میں مردو ں کو خواتین نظرا ٓنے سے اس لئے منع کیا گیا ہے کہ ہم جنسی کی حوصلہ شکنی کی جا سکے لیکن خواجہ سرا کا معاملہ بلکل مختلف ہے کیونکہ یہ ایک طبی مسئلہ ہے اور انہیں قدرت کی طرف سے ہی ایسا بنایا گیا ہے۔
یہ فیصلہ تین خواجہ سراﺅ ںکے مقدمے میں سنایاگیا ہے جن کا مو¿قف تھاکہ ڈاکٹروں کے سرٹیفکیٹ ان کے حقیقی خواجہ سرا ہونے کی تصدیق کرچکے ہیں لہذا انہیں خواتین جیسا لباس پہننے اور میک اپ کرنے کی اجازت ہونا چاہیے