وہ شہر جو 50سال سے مسلسل جل رہا ہے
نیویارک (نیوز ڈیسک) آج کل کہیں آگ لگ جائے تو منٹوں میں فائر بریگیڈ پہنچ جاتی ہے اور عموماً کچھ گھنٹوں میں آگ پر قابو پا لیا جاتا ہے مگر امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں ایک قصبے میں 50 سال سے آگ لگی ہوئی ہے اور تمام تر کوششوں کے باوجود اسے بجھایا نہیں جا سکا۔ یہ قصبہ ریاست پنسلوانیا میں واقع ہے اور اس کا نام سینٹرالیا ہے۔
جب 1862ءمیں اس کی بنیاد رکھی گئی تو یہ ایک پرسکون اور خوبصورت جگہ تھی اور جب اس کی زمین کے نیچے کوئلے کے وسیع و عریض ذخائر دریافت ہوئے تو مقامی لوگ خوشی سے پھولے نہیں سمارہے تھے کیونکہ جلد ہی یہاں کان کنی کا کام شروع ہو گیا اور ان کی قسمت ہی بدل گئی۔ یہ خوشیاں ایک صدی تک تو جاری رہیں لیکن مئی 1962ءمیں یہاں اس وقت ایک حیران کن واقعہ ہوا جب لوگ ایک مقامی تہوار کی تیاریاں کر رہے تھے۔ اچانک جگہ جگہ زمین کے اندر سے دھواں نکلناشروع ہو گیا اور رفتہ رفتہ مختلف جگہوں سے آگ کی لپٹیں بھی نکلنے لگیں۔ کچھ دن بعد آگ اتنی پھیل گئی کہ لوگوں کو زندگی خطرے میں نظر آنے لگی۔ ایک جگہ زمین اچانک پھٹ گئی اور ایک نوعمر لڑکا اس میں گرتے گرتے بچا۔اس کے بعد حکومت نے مقامی لوگوں سے زمین خرید کر انہیں یہاں سے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔ حکومت 20 سال تک آگ پر قابو پانے کی کوششیں کرتی رہی مگر پھر اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا گیا۔ تحقیقات کے بعد یہ خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ مقامی لوگوں نے تہوار سے پہلے سارے علاقے کا کوڑاایک جگہ جمع کرکے اسے آگ لگا دی تھی اور اس کے نیچے موجود کوئلے کی کان کی ایک سرنگ کا منہ کھلا رہ گیا تھا جس کی وجہ سے ساری کانوں میں آگ پھیل گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہاں اتنا کوئلہ موجود ہے کہ تقریباً مزید اڑھائی صدیوں تک یہ آگ سلگتی رہے گی۔ اگرچہ اب یہاں سے سب لوگ منتقل ہو چکے ہیں مگر زمین کے ایک محفوظ ٹکڑے پر رہنے والے آٹھ خاندانوں نے علاقہ چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے اور وہ آج بھی دھوئیں اور آگ کے حصار میں یہاں زندگی گزار رہے ہیں