ورسک روڈ پر نامعلوم مسلح افراد نے سکول میں گھس کر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں خاتون ٹیچر اور سیکیورٹی اہلکار سمیت اب تک84بچے شہید ، اساتذہ سمیت کئی بچے زخمی ہوگئے جبکہ کئی بچوں کو یرغمال بنالیا گیا اور آخری اطلاعات تک دہشتگردوں اور سیکیورٹی فورسز میں مقابلہ جاری ہے، ایک خودکش بمبار نے اپنے آپ کو آڈیٹوریم میں اُڑالیا ۔سیکیورٹی فورسز نے بچوں کو نکالنے کے لیے دھماکہ خیز مواد سے سکول کی پچھلی دیوار اُڑادی جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ نے تین روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے 84شہادتوں کی تصدیق کردی اوربتایاکہ تین دہشتگردوں کو ماردیاگیاہے جنہوں نے ایف سی کی وردی پہن رکھی تھی ۔
پولیس ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی وردیوں میں ملبوس پانچ سے چھ افراد سکول کی دیوار پھلانگ کر اندرداخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ کردی۔عینی شاہدین کے مطابق ایک بچے نے سکول کے اندر سے اپنے والدین کو ٹیلی فون پر بتایاکہ فائرنگ کرنیوالے افراد سکول کے اندر ہی موجود ہیں۔ایک اور شخص نے بتایاکہ سکول کے اندر پیپر ہورہے تھے اور ایک پارٹی بھی چل رہی تھی ، وہ لوگ بچوں کو ماررہے تھے ،پرچے دینے والے طلباءکو ایک کونے میں اکٹھا کرکے یرغمال بھی بنالیاگیا۔ سکول سے باہر نکلنے والے ایک بچے نے بتایاکہ اُسے اندر سے سیکیورٹی فورسز نے بازیاب کرایا،بارہویں جماعت کا پرچہ جاری تھاکہ فائرنگ کے فوری بعد خاتون ٹیچر نے اُنہیں لیٹ جانے کی ہدایت کی ، وہ اُٹھے تو چا ر دوستوں کی لاشیں اور کئی زخمیوں کو خون میں لت پت پڑے دیکھا۔
سکول کے اندر مسلح افراد کے گھسنے کی اطلاع پر سیکیورٹی فورسز نے آرمی پبلک سکول اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور آخری اطلاعات تک شدت پسندوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے، بکتر بند گاڑیاں بھی پہنچ چکی ہیںجبکہ ایمبولینسوں کی مدد سے سکول کے عقبی راستے سے زخمی نکالے جارہے ہیں اور اب تک 100کے قریب اساتذہ و طلباءسی ایم ایچ اور لی ریڈنگ ہسپتال منتقل کردیئے گئے ہیں جہاں مزید درجنوںزخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے جبکہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال انتظامیہ نے خون کے عطیات دینے کی اپیل کردی۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق دہشتگردوں کا نشانہ بننے والے بچوں کی عمریں 6سے 16سال کے درمیان ہیں ، سکول انتظامیہ کے مطابق حملے کے وقت سکول میں ڈیڑھ ہزار سے زائد بچے موجود تھے ۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ نے بتایاکہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں 24لاشیں جبکہ سی ایم ایچ میں 60لاشیں موجود ہیں ، حملہ آور غیرملکی تھے اور عربی زبان بول رہے تھے ۔
پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے ریسکیو آپریشن شروع کردیاہے اور بڑی تعداد میں بچوں کو نکال لیاگیاہے ۔
وزیراعظم نواز شریف نے وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان اور عمران خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ پرویز خٹک کو فوری طورپر موقع پر پہنچنے کی ہدایت کردی ۔
پولیس ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی وردیوں میں ملبوس پانچ سے چھ افراد سکول کی دیوار پھلانگ کر اندرداخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ کردی۔عینی شاہدین کے مطابق ایک بچے نے سکول کے اندر سے اپنے والدین کو ٹیلی فون پر بتایاکہ فائرنگ کرنیوالے افراد سکول کے اندر ہی موجود ہیں۔ایک اور شخص نے بتایاکہ سکول کے اندر پیپر ہورہے تھے اور ایک پارٹی بھی چل رہی تھی ، وہ لوگ بچوں کو ماررہے تھے ،پرچے دینے والے طلباءکو ایک کونے میں اکٹھا کرکے یرغمال بھی بنالیاگیا۔ سکول سے باہر نکلنے والے ایک بچے نے بتایاکہ اُسے اندر سے سیکیورٹی فورسز نے بازیاب کرایا،بارہویں جماعت کا پرچہ جاری تھاکہ فائرنگ کے فوری بعد خاتون ٹیچر نے اُنہیں لیٹ جانے کی ہدایت کی ، وہ اُٹھے تو چا ر دوستوں کی لاشیں اور کئی زخمیوں کو خون میں لت پت پڑے دیکھا۔
سکول کے اندر مسلح افراد کے گھسنے کی اطلاع پر سیکیورٹی فورسز نے آرمی پبلک سکول اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور آخری اطلاعات تک شدت پسندوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے، بکتر بند گاڑیاں بھی پہنچ چکی ہیںجبکہ ایمبولینسوں کی مدد سے سکول کے عقبی راستے سے زخمی نکالے جارہے ہیں اور اب تک 100کے قریب اساتذہ و طلباءسی ایم ایچ اور لی ریڈنگ ہسپتال منتقل کردیئے گئے ہیں جہاں مزید درجنوںزخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے جبکہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال انتظامیہ نے خون کے عطیات دینے کی اپیل کردی۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق دہشتگردوں کا نشانہ بننے والے بچوں کی عمریں 6سے 16سال کے درمیان ہیں ، سکول انتظامیہ کے مطابق حملے کے وقت سکول میں ڈیڑھ ہزار سے زائد بچے موجود تھے ۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ نے بتایاکہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں 24لاشیں جبکہ سی ایم ایچ میں 60لاشیں موجود ہیں ، حملہ آور غیرملکی تھے اور عربی زبان بول رہے تھے ۔
پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے ریسکیو آپریشن شروع کردیاہے اور بڑی تعداد میں بچوں کو نکال لیاگیاہے ۔
وزیراعظم نواز شریف نے وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان اور عمران خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ پرویز خٹک کو فوری طورپر موقع پر پہنچنے کی ہدایت کردی ۔
