Monday, 8 December 2014

تحریک انصاف کا احتجاج ، انتظامیہ نے ”مظاہرین “ دھو ڈالے ،مسلم لیگ ن کے کارکنان کی فائرنگ سے تحریک انصاف کاکارکن جاں بحق،صورتحال کشیدہ ، بازار بند ہوگئے

News

تحریک انصاف کا احتجاج ، انتظامیہ نے ”مظاہرین “ دھو ڈالے ،مسلم لیگ ن کے کارکنان کی فائرنگ سے تحریک انصاف کاکارکن جاں بحق،صورتحال کشیدہ ، بازار بند ہوگئے

    فیصل آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) فیصل آباد کے ناولٹی چوک میں دونوں سیاسی جماعتوں کے کارکنان میں تصادم رکوانے کے لیے پولیس نے واٹرکینن کا استعمال کیا اور مظاہرین کو ’دھو‘ ڈالاجبکہ مسلم لیگ ن کے کارکنان کی طرف سے فائرنگ کے نتیجے میں تحریک انصاف کا ایک کارکن جاں بحق اور کئی زخمی ہوگئے جنہیں ہسپتال منتقل کردیاگیا۔ناولٹی چوک میں فائرنگ اور کشیدگی کے بعد گھنٹہ گھر بازاروں میں کاروباری مراکز بند ہوہوگئے ہیں ۔سابق صوبائی وزیرقانون رانا ثناءاللہ نے فائرنگ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ فیصل آباد کے عوام نے ثابت کردیا کہ وہ نواز شریف کے ’سپاہی‘ ہیں جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب نے کارکن کی ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے ملزم کی گرفتاری اور ذمہ داران کیخلاف کارروائی کا حکم دیدیا۔ 
     نجی ٹی وی چینل پر نشر ہونیوالی فوٹیج میں ایک شخص کو پستول سے سیدھی فائرنگ کرتے ہوئے دکھایاگیاجو ن لیگ کے طاہرجمیل کا گارڈ بتایاگیا۔ساہ کپڑوں میں ملبوس ملزم جھاڑیوں کے ساتھ سے ہوتاہوا آیا اور فائرنگ شروع کردی۔ 
    تفصیلات کے مطابق ناولٹی چوک میں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف انصاف کے کارکنان میں تصادم شروع ہوگیاتھا جس پر پولیس کی نفری بھی پہنچی لیکن خاطر خواہ کامیابی نہ ہونے پر واٹر کینن منگوالیے گئے ۔ 
    پولیس کی طرف سے مظاہرین پر واٹر کینن کے استعمال کے بعد کارکنان نے پتھراﺅشروع کردیا اور ایک جگہ پر سینکڑوں جمع ہوگئے اور صورتحال خاصی کشیدہ ہوگئی ۔ واٹر کینن واپس جاتے ہی دونوں جماعتوں کے کارکنان نے ایک دوسرے پر پتھراﺅ شروع کردیااور مسلم لیگ ن کے کارکنان نے فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں کچھ گولیاں دیواروں پر لگی جبکہ تحریک انصاف کے دوکارکن زخمی ہوگئے۔ تحریک انصاف کے کارکنان نے موقف اپنایاکہ وہ پرامن احتجاج کررہے تھے لیکن انتظامیہ نے طاقت کے استعمال سے پرتشدد کارروائی کا آغاز کیا۔ 
    ذرائع نے بتایاکہ واٹر کینن کا پانی ختم ہوگیاتھا اور امکان ہے کہ دوبارہ جلد ہی مزید واٹر کینن موقع پر پہنچ رہے ہیں جبکہ پولیس کی طرف سے کسی بھی قسم کی کوئی فائرنگ نہیں کی گئی کیونکہ پولیس کے پاس صرف ڈنڈے موجود ہیں اور اہلکاروں کو اسلحہ نہیں دیاگیا۔
    ریسکیو ذرائع کے مطابق ناولٹی چوک پر تصادم کے نتیجے میں دوپولیس اہلکاروں سمیت گیارہ افراد زخمی ہوگئے ہیں ۔ڈسٹرکٹ ہسپتال ذرائع کے مطابق20سے 25سالہ اصغرنامی جوان کے پیٹ میں گولیاں لگی ہوئی تھی اور اُسے مردہ حالت میں ہی ہسپتال منتقل کیاگیا۔ الائیڈ ہسپتال میں بھی گولیوں سے زخمی تین افراد کو منتقل کیاگیا۔ 
    نوجوان کی ہلاکت اور زخمیوں کے بعد حالات مزید کشیدہ ہوگئے اور گھنٹہ گھر کے اطراف کے آٹھوں بازاروں میں دکانیں بند ہوناشروع ہوگئی ہیں اور ہر کوئی جلد از جلد اپنے ٹھکانوں پر پہنچنے کی کوشش میں ہے جس کی وجہ سے ٹریفک بھی جام ہوگیا جبکہ پولیس نے صورتحال کی سنجیدگی کو بھانپتے ہوئے ایکشن لیا اور لیگی کارکنان کو پیچھے دھکیل دیاجس کے بعد دونوں میں تصادم کی بجائے بات ایک دوسرے کے خلاف نعروں تک محدود ہے ۔
    سی پی او سہیل تاجک کاکہناتھاکہ فائرنگ کرنیوالے شخص کی تلاش شروع کردی ہے ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق تاحال کوئی بھی پولیس اہلکار اُس ڈیرے کی طرف نہیں گیاجہاں سے فائرنگ ہوئی تھی ، سیکیورٹی اہلکاروں نے موقف اپنایاکہ اعلیٰ حکام کی طرف سے ہدایات ملنے تک وہ کچھ نہیں کرسکتے ۔ 
    رانا ثناءاللہ کا کہناتھاکہ مسلم لیگ ن اور پولیس کی طرف سے کوئی فائرنگ نہیں ہوئی ،پی ٹی آئی کارکنان نے تین مقامات پر تصادم کیا، شہر بندکرانے کی کال میں ناکامی پر پی ٹی آئی تشد دپر اُترآئی ، فیصل آباد کے عوام نے ثابت کردیاہے کہ وہ نواز شریف کے ’سپاہی‘ ہیں ،عوام نے فیصل آباد ہڑتال کا حشر دیکھ لیا، عمران خان نے دیکھ لیاہے کہ فیصل آباد کے عوام جاگ چکے ہیں ، ہڑتال سے اربوں روپے کا نقصان ہوتاہے ، کیا پی ٹی آئی کی یہی پالیسی ہے 

    RELATED POSTS