بھارت میں1990ءسے چھٹی پر جانیوالے ملازم کو بالآخر 2015ءمیں نوکری سے نکال دیاگیاجس کی تصدیق شہری ترقی کے وزیر ایم وینکیاہ نیدو نے کردی ۔
نیدو کاکہناتھاکہ محکمہ برقیات کا انجینیئر اے کے ورما 1990ءمیں چھٹی پر گیا اور کبھی واپس دفتر نہیں آیااورثابت ہواکہ وہ جان بوجھ پر دفتر سے غیر حاضر ہے۔
ان کے مطابق ورما کے خلاف 1992ءسے تحقیقات جاری ہیں اوراُنہوں نے کبھی تعاون نہیں کیاجس کی وجہ سے 2007ءتک باقاعدہ کارروائی شروع نہیں ہوسکی اور برخاستگی کے فیصلے میں مزید سات برس لگ گئے ۔
حکومتی وزیر نے بتایا کے اے کے ورما نے 1980ءمیں سنٹرل پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ میں ملازمت اختیار کی تھی اور 1990ءتک وہ اس محکمے کے ایگزیکٹو انجینیئر کے عہدے تک پہنچے اور پھر رخصت پر چلے گئے۔
یادرہے کہ گذشتہ برس ریاست مدھیہ پردیش کے ایک سرکاری سکول کے استانی کو اس کی 24 سالہ ملازمت کے دوران 23 سال تک غیر حاصر رہنے پر نوکری سے نکالا گیا تھا۔
نیدو کاکہناتھاکہ محکمہ برقیات کا انجینیئر اے کے ورما 1990ءمیں چھٹی پر گیا اور کبھی واپس دفتر نہیں آیااورثابت ہواکہ وہ جان بوجھ پر دفتر سے غیر حاضر ہے۔
ان کے مطابق ورما کے خلاف 1992ءسے تحقیقات جاری ہیں اوراُنہوں نے کبھی تعاون نہیں کیاجس کی وجہ سے 2007ءتک باقاعدہ کارروائی شروع نہیں ہوسکی اور برخاستگی کے فیصلے میں مزید سات برس لگ گئے ۔
حکومتی وزیر نے بتایا کے اے کے ورما نے 1980ءمیں سنٹرل پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ میں ملازمت اختیار کی تھی اور 1990ءتک وہ اس محکمے کے ایگزیکٹو انجینیئر کے عہدے تک پہنچے اور پھر رخصت پر چلے گئے۔
یادرہے کہ گذشتہ برس ریاست مدھیہ پردیش کے ایک سرکاری سکول کے استانی کو اس کی 24 سالہ ملازمت کے دوران 23 سال تک غیر حاصر رہنے پر نوکری سے نکالا گیا تھا۔
