Monday, 12 January 2015

دہشتگردوں کو ’سر عام پھانسی‘ دینے سے متعلق درخواست کی سندھ ہائیکورٹ میں سماعت

News
 سندھ حکومت کے وکیل نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں دہشتگردوں کو سر عام پھانسیاں نہیں دی جا سکتیں تاہم اگر عدالت حکم دے تو اس پر عمل درآمد کیا جا سکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایک شہری کی طرف سے دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ دہشتگردوں کو نشان عبرت بنانے کیلئے سر عام پھانسیاں دی جائیں۔ سندھ ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت کا آغاز ہوا تو درخواست گزار وکیل کا کہنا تھا کہ اسلامی تعلیمات میں لوگوں کو سر عام پھانسیاں دینے کی اجازت ہے اس لئے عدالت حکومت کو حکم دے کہ دہشتگردی کے مقدمات میں اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔ دوسری جانب عدالت کے روبر سندھ حکومت کے وکیل نے سزائے موت کے منتظر قیدیوں کی فہرست پیش کی تو ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت ایسا کوئی فیصلہ خود سے نہیں کر سکتی۔ 
سماعت کرنے والے جج جسٹس احمد علی کا کہنا تھا کہ اگر دہشتگردوں کو سر عام پھانسیاں دی گئیں تو امن عامہ کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں اس لئے عدالت ایسا حکم دینے سے پہلے سماعت مکمل کرے گی۔ انہوں نے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اگلی سماعت پر رحم کی اپیلوں کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں۔

RELATED POSTS