ٹوئٹر سے پکڑے دو گروہ
بہت سے لوگوں کے لیے ٹوئٹر صرف ایک سوشل میڈیا ویب سائٹ ہے لیکن بھارتی شہر بنگلور کی پولیس اس کا استعمال جرم روکنے اور مجرموں کو پکڑنے کے لیے بخوبی کر رہی ہے۔
پولیس نے نامعلوم ٹوئٹر اكاؤنٹس سے ملنے والی معلومات کی بنیاد پر کام دینے کے نام پر دھوکہ کرنے والے ایک گروہ اور جسم فروشی کے ایک مبینہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا ہے۔
پہلا معاملہ ایک ایسے گروہ کا ہے جو ملازمت کے خواہش مند لوگوں سے رقم لے کر آئی ٹی کمپنیوں میں کام کے تجربے کا فرضی سرٹیفکیٹ جاری کرتا تھا۔
اس سلسلے میں پولیس نے 26 افراد کو گرفتار کیا ہے جو مبینہ طور پر 25 کمپنیوں کے فرضی لیٹر ہیڈ پر سرٹیفکیٹ جاری کر رہے تھے۔
بنگلور پولیس نے ٹوئٹر پر اپنا ای میل لوگوں کے ساتھ شیئر کیا اور لوگوں سے مدد کی اپیل کی۔ اس سے ملنے والی معلومات ان دو معاملات میں مددگار رہی۔
بنگلور پولیس کے ڈپٹی کمشنر (جرائم) ابھیشیک گوئل نے اپنے ٹویٹر ہینڈل سے لوگوں سے جسم فروشی اور سمگلنگ سے منسلک معلومات دینے کا کہا۔
گوئل نے کہا ’اگلے ہی دن مجھے ٹویٹر پر ایک گمنام پیغام ملا جس کے ساتھ انٹرنیٹ پر شائع ہونے والے فحش اشتہارات کا لنک تھا۔ ہم نے ویب سائٹ پر دیے نمبر پر رابطہ کرنے کے لیے ایک شخص کو بھیجا۔‘
بنگلور کے جوائنٹ کمشنر (جرائم) ہیمنت نبالكر نے کہا ’ہم چونک گئے کہ یہ نمبر کئی ریاستوں میں جسم فروشی کے کال سینٹر کی طرح کام کر رہا تھا۔‘
نوکری کے نام پر دھوکہ
عصمت فروشی کا یہ نیٹ ورک چلانے والوں کی گرفتاری کے بعد پولیس نے نوکری کے نام پر دھوکہ دینے والے گروہ پر توجہ دی۔