Friday, 31 October 2014

’مسخ شدہ تاریخ درست کریں‘

News

’مسخ شدہ تاریخ درست کریں‘

’مغل دور میں فرقہ ورانہ فسادات کیوں نہیں تھے یہ بتانے کے لیے صحیح طریقے سے لکھنے اور بیان کرنے کی ضرورت ہے۔‘ڈاکٹر مبارک علی
ماہرین تعلیم پرائمری تعلیم سے اعلیٰ تعلیمی کی سطح تک نصاب میں ترامیم کے لیے وزیراعظم کےحکم نامے کو وقت کی اہم ضرورت سمجھتے ہیں مگر ان کی نظر میں ابتدا تاریخ کی درستگی سے ہونی چاہیے۔
معروف مصنف اور استاد ڈاکٹر مہدی حسن کہتے ہیں کہ نصاب کی درستگی اور ترامیم کے لیے سنہ 1994 میں بھی اس وقت کی حکومت نے پہلی سے بارہویں جماعت کے نصاب کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی قائم کی تھی۔ انھیں اس کا سربراہ مقرر کیا گیا تاہم تجاوز کے باوجود چاروں صوبوں کے ٹیکسٹ بک بورڈ نے رپورٹ پر عمل نہیں کیا اور غلطیاں جوں کی توں برقرار رہیں۔
’جو جو چیزیں میں نے اس میٹینگ میں درست کروائیں وہ تو ٹھیک کر دی گئیں تاہم رپورٹ میں جو بڑی باتیں اور تجاویز تھیں اس کا کچھ پتہ نہیں چلا اور کتابیں اسی طرح چل رہی ہیں اور معلوم نہیں رپورٹ کا کیا ہوا۔‘
معروف تاریخ دان ڈاکٹر مبارک کا کہنا ہے کہ اگرچہ وزیراعظم کی ہدایات بہت اچھی ہیں تاہم مسئلہ یہ ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کیا قانونی طور پر صوبوں کو حکم دینے کا مجاز ہے؟ کیونکہ اٹھارویں ترمیم کے بعد تعلیم صوبائی موضوع بن چکی ہے۔
لیکن دوسری جانب ڈاکٹر مہدی حسن پر امید ہیں کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اس معاملے کو سنجیدگی سے لے گا۔
’ہائر ایجوکیشن صوبائی مسئلہ نہیں، سرکاری یونیورسٹیاں ہائر ایجوکیشن کے پاس ہیں اور بڑے بڑے نجی تعلیمی ادارے صوبائی حکومتوں کے ماتحت نہیں ان کے مشورے سے مسائل حل ہو سکتے ہے۔‘
ڈاکٹر مبارک علی سمجھتے ہیں کہ بطور مضمون تاریخ میں ترمیم ہونی چاہیے تھی مگر وزیراعظم کی جانب سے ایچ ای سی کو جاری کیے جانے والے ہدایت نامے میں اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔
برصغیر کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اشوک بادشاہ نے کیسے تشدد کی پالیسی کو ترک کیا اور اکبر بادشاہ نے ’صلحِ کل‘ کی پالیسی بیان کریں تو وہ سمجھنے میں آسان ہوگا۔
’مغل دور میں فرقہ ورانہ فسادات کیوں نہیں تھے یہ بتانے کے لیے صحیح طریقے سے لکھنے اور بیان کرنے کی ضرورت ہے۔‘
ڈاکٹر مبارک نے پاکستان میں دہشت گردی کی صورتحال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ محض یہ کہہ کر بچوں کو تعلیم نہیں دے سکتے کہ دہشت گردی اور مذہبی تعصب بری چیز ہے اس کے لیے آپ کو تاریخ کو حقائق کے ساتھ بیان کرنا ہو گا۔

RELATED POSTS