Thursday, 30 October 2014

وہ طریقے جن سے باس بھی خوش ہو جائے اور کام بھی نہ کرنا پڑے

News

وہ طریقے جن سے باس بھی خوش ہو جائے اور کام بھی نہ کرنا پڑے

    برلن (نیوز ڈیسک)کسی بھی ادارے میں کچھ لو گ ایسے ضرور ہوتے ہیں جو ہر وقت کام سے جان چھڑانے کی کوشش میں رہتے ہیں اور ان میں سے بعض ایسے فنکار بھی ہوتے ہیں جو بھر پور کام دچوری کے باوجود محنتی ملازمین کے درجہ پر فائز رہتے ہیں۔یہ کامیاب کا م چور کیا حربے استعمال کرتے ہیں ، آئیے دیکھتے ہیں ۔
    -1کامیاب کام چوری کا پہلا حربہ یہ ہے کہ معروف نظر آئیں۔یہ لوگ اپنی کرسی سے غائب بھی ہوں تو اس پر اپنی جیکٹ ٹانگ دیتے ہیں تاکہ یو ں لگے کہ ابھی کہیں گئے ہیں ۔
    -2کمپیوٹر نے کام چوروں کے فن کو نکھار دیا ہے یہ لوگ بظاہر کام کرتے نظر آتے ہیں لیکن حقیقت میں اپنی پسندیدہ ویب سائٹوں سے لطف اندوز ہورہے ہوتے ہیں اور یہ براﺅزنگ ہسٹری کو ڈیلیٹ کر نا نہیں بھولتے ۔ 
    -3سرکاری محکمے تو کام چوروں کی جنت ہیں کیونکہ یہاں عموماً کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتا کہ آپ نے اپنی ذمہ داری کتنی پوری کی ہے اور کام کے وقت آپ کیا کر رہے ہیں ۔
    -4یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ چھوٹی کمپنیوں میں تنخواہ کم اور کام زیادہ ہوتاہے جبکہ بڑی کمپنیوں میں تنخواہ زیادہ اور فراغت او ر کام چوری کے مواقع وافر ہوتے ہیں ۔
    -5کام چور ملازمین کوشش کرتے ہیں کہ نااہل اور معمر افسران کے ساتھ کام کریں کیو نکہ یہ افسران خود بھی سست اور کام چور ہوتے ہیں اس لئے ان کے ماتحت بھی خوب مزے کرتے ہیں ۔ 
    -6ان لینڈ میں کی گئی ایک تحقیق سے یہ بھی معلو م ہوا کہ ماہر کام چور اپنے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے اعلیٰ عہدے تک پہنچ جاتے ہیں ۔ جب یہ لوگ منیجر کے عہدے پر پہنچ جاتے ہیں تو ماتحتوں کو کام پر لگا کر خود مینگیں اور کانفرنس کرتے رہتے ہیں اور یوں افسری اور کام چوری کا مزہ بیک وقت لیتے ہیں ۔ آپکے افسران میں بھی ایسے لوگ ضرورہوں گے ،زرا سوچئے!

    RELATED POSTS