ملائیشین طیارے کو جنگی جہاز نے مار گرایا ؟تحقیق کا نیا پہلو
جرمن (نیوز ڈیسک) ڈچ پراسیکیوٹر ملائیشیا کی فلائٹ نمبرMH17 کی تباہی کی تحقیقات کررہے ہیں اور ان کا یقین ہے کہ اس جہاز کو مار گرایا گیا ہے جس میں ایئر میزائل کے استعمال کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ جرمن میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک سینئر پراسیکیوٹر نے بتایا ہے کہ روسی حکومت نے ہمیشہ کہا ہے کہ ریڈار امیجری مکمل طور پر یہ ثابت کررہی ہے کہ بوئنگ 777طیارے کو یوکرائن فوجی طیارے نے نشانہ بنایا ہے جبکہ مغربی حکام عوامی سطح پر اس کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔جرمن نیوز میگزین کو دیئے گئے اس انٹرویو نے پیر کے روز اس پراسیکیوٹر نے کہا کہ اس ضمن میں ڈچ حکام ماسکو سے ایسی اطلاعات مانگی ہیںجن سے یہ رہنمائی ہو سکے کہ اس واقعے کے دوران یو کرائن طیارہ قریب ہی پرواز کررہا تھا۔ماسکو کی طرف سے موصول ہونے والی اس اطلاع کی بنا پر اس طیارے کو میزائل کے ذریعے زمین سے نشانہ بنائے جانے کا امکان بھی پیدا ہو گیا ہے لیکن اس پر ہم اپنی آنکھیں بند نہیں کررہے اس واقعہ کو کسی اور زاویہ نظر سے بھی دیکھا جائے گا۔ اس واقعے کے بعد امریکہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شواہد ثابت کرتے ہیں کہ جہاز کو زمین سے روسی فوجوں کی طرف سے نشانہ بنایا گیا تھا جو اسو قت مشرقی یوکرائن کے علاقے میں قابض تھیں۔ڈچ سیفٹی بورڈ کی طرف سے ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے جو فضائی حادثوں کی چھان بینی کرتی ہے جس کے مطابق MH17 کی حدود میں کئی اور جیٹ طیارے بھی پرواز کررہے تھے اور اس کو گرانے کی اہلیت رکھنے والا کوئی طیارہ نہ تھا۔یاد رہے کہ یہ بوئنگ طیارہ 17جولائی کو مشرقی یوکرائن پر پرواز کرتے ہوئے گر کر تباہ ہو گیا تھا اوراس میں سوار 298لوگ جان کی بازی ہار گئے تھے جن میں دو تہائی سے زائد ڈچ شہری تھے اور اس حادثے کی تحقیقات کرنے والے ڈچ حکام کو حادثہ کے شکار افراد کے لواحقین کی طرف سے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور لواحقین کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک حملہ آوروں کا پتا لگانے میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نصیب نہیں ہوئی