News
داعش کے ہاتھوں 300 سے زائد قبائلی ہلاک
دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کے ہاتھوں عراق کے مشرقی صوبے انبار میں ایک قبیلے کے مارے جانے والے افراد کی تعداد تین سو سے تجاوز کر گئی ہے۔
عراق کے حقوق انسانی کی وزارت کے مطابق گذشتہ چند دنوں کے دوران دولت اسلامی کے جنگجو 322 افراد کو موت کے گھاٹ اتار چکے ہیں۔
حکام کے مطابق ایک واقعے میں البومر قبیلے کے 50 سے زائد مردوں اور عورتوں کو دولت اسلامیہ کے جنگجوؤ ں کی مخالفت کرنے کی پاداش میں قطار میں کھڑا کر کے گولیاں مار دی گئی تھیں۔
البونمر قبیلے کے حکام کا کہنا ہے کہ تازہ ترین واقعہ اتوار کی صبح ہوا۔
بغداد سے بی بی سی کی نامہ نگار اورلا گیورن کا کہنا ہے کہ سنی قبیلے البونمر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو قتل کرنا دولتِ اسلامیہ کا روز کا معمول بن چکا ہے۔
ایک سینیئر مذہبی رہنما نعیم الغود نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بغداد کی شیعہ اکثریتی حکومت نے ان کے حامیوں کو علاقے میں بےیار و مددگار چھوڑ دیا ہے جہاں دولت اسلامیہ کے جنگجو ان لوگوں کو چن چن کر قتل کر رہے ہیں۔
اس قبیلے کے متعدد افراد کی لاشیں ایک اجتماعی قبر سے اس ہفتے کے اوائل میں برآمد ہوئی تھیں۔
دولت اسلامیہ کے جنگجو عراق اور شام کے ایک وسیع علاقے پر اپنا تسلط قائم کیے ہوئے ہیں۔