Sunday, 2 November 2014

ایرانیوں کےلیےحافظ کی شاعری میں امید


صوفی چو تو رسـم رہروان می‌دانی ۔۔بر مردم رند نـکـتـہ بـسیار مـگیر

News

ایرانیوں کےلیےحافظ کی شاعری میں امید

چودھویں صدی کے مشہور شاعر حافظ کا کلام ایران کے تقریباً ہر ایک گھر میں موجود ہوتا ہے اور کیوں نہ ہو۔اپنے انتقال کے چھ سو سال بعد بھی اس عظیم شاعر کے کلام میں آپ کو آج کے ایران کی شناخت بھی نظر آتی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ آپ کو ہر ایرانی گھر میں دو کتابیں ضرور ملیں گی، ایک قرآن اور دوسرا دیوان حافظ۔۔ان میں سے ایک کتاب لوگ پڑھتے ہیں اور دوسری نہیں۔
اس لطیفے کو سمجھنے کے لیے آپ کو اس سے زیادہ کچھ نہیں کرنا کہ آپ شیراز میں حافظ کے مزار پر پہنچ جائیں اور ان لاکھوں لوگوں میں شامل ہو جائیں جو ہردوسرے روز یہاں پہنچے ہوتے ہیں۔
کچھ دن پہلے ایک سہ پہر میں نے بھی ایسا ہی کیا اور حافظ شیرازی کے مزار پر جا پہنچا۔
مزار پر خوب چہل پہل تھی اور ہر کوئی خوشگوار ماحول سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ کسی کو کہیں جانے کی جلدی نہیں تھی۔
دن ہو یا رات، گلاب کے باغوں، جھرنوں اور سنگترے کے درختوں میں گھرا ہوا یہ خوبصورت مزار عقیدت مندوں سے بھرا رہتا ہے جو سنگِ مرر کی قبر پر ہاتھ مار مار کر ایک دوسرے کو حافظ کے شعر سنا سنا کر سر دھنتے، داد دیتے اور داد پاتے نہیں تھکتے۔

RELATED POSTS