Thursday, 6 November 2014

بھارتی عدالت کا انوکھا فیصلہ ،ریپ کے مجرموں میں خوشی کی لہر

News

بھارتی عدالت کا انوکھا فیصلہ ،ریپ کے مجرموں میں خوشی کی لہر


نیودہلی(نیوز ڈیسک) بھارت میں خواتین کی عصمت دری کے عام رواج کے ساتھ ساتھ عدالتوں کے مشکوک فیصلوں نے صورتحال کو مزید گھمبیر کر دیا ہے۔دہلی ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں 65سالہ خاتون کے ساتھ زیادتی کرنے والے ملزم کو اس بناءپر بری الزمہ قرار دے دیا ہے کہ اس عمر کی عورت سن یاس(مینو پاز یا ایام کا خاتمہ ) کی عمر سے گزر چکی ہوتی ہے۔اچھے لال نامی 49سالہ شخص پر 65سالہ خاتون سے جنسی زیادتی اور قتل کا الزام تھا۔جسٹس پر دیپ اور جسٹس مکتا گپتا نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ خاتون مینو پاز کی عمر سے گزر چکی تھی۔یہ بھی کہا گیا کہ نازک اعضاءپر زخم کی بنیاد پر زیادتی کا جرم ثابت قرار نہیں دیا جاسکتا۔قانون دان ورندہ گروور کا کہنا ہے کہ مینو پاز ایک طبی مسئلہ ہے اور اس کا جنسی زیادتی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔اسی طرح انہوں نے متاثرہ فرد کی عمر کو بھی غیرمتعلق قرار دیا اور اس بات پر سخت افسوس کا اظہار کیا کہ عدالت نے ان دو باتوں کا تذکرہ ریپ کے حوالے سے کیا ہے۔بھارت کے قانونی اور انسانی حقوق کے حلقوں نے فیصلے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    RELATED POSTS