جنگ عظیم میں انگریزوں کی نیند اڑانے والی جرمن چڑیلوں کی کہانی
ماسکو(نیوزڈیسک)صنف نازک کے بارے میں روایتی سوچ تو یہی کہتی ہے کہ وہ مردوں کی نسبت کمزور اور کم ہمت ہوتی ہے لیکن ایسا سوچنے والے شائد یہ نہیں جانتے کہ دنیا کی تاریخ میں خواتین نے ایسے ایسے بہادرانہ کارنامے سر انجام دیے ہیں کہ جن پر مرد بھی رشک کرتے ہیں۔
یہ دوسری جنگ عظیم کی بات ہے کہ روس کا سٹالن گراڈ جرمنی کی سکستھ آرمی کے گھیراﺅ میں تھا ،لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے تھے اور بے شمار بھوک سے مر رہے تھے۔روسی حکومت کے پاس پائلٹوں کی شدید کمی واقع ہو چکی تھی جس کی وجہ سے خواتین پائلٹوں کو جنگی خدمات کے لئے منتخب کرنے کافیصلہ کیا گیا اور1941 میں 588ویں نائٹ بمبار رجمنٹ کاقیام عمل میں لایا گیا جسے عرف عام میں نائٹ وچز (رات میں حملہ کرنے والی چڑیلیں)بھی کہا جاتا ہے ۔
اس ہوا باز فوج میں صرف خواتین شامل تھیں جو روس کے ایک مشہور پرائیو یٹ فلائنگ کلب کی تربیت یافتہ تھیں ۔مشہور خاتون ہواباز میجر مرینہ راسکوواکی قیادت میں ان خواتین پائلٹوں نے جس بہادری اور جرات کا مظاہرہ کیا اسے آج تک یاد کیا جاتا ہے۔
مختصر ٹریننگ کے بعد انہوںنے Polikartov PO-2نامی روسی جہازوں سے جرمن ٹھکانوں پر ہزاروں تابڑ توڑ حملے کیے جس کی وجہ سے دشمن بر ی طرح لڑکھڑا گیا۔
یہ خواتین اپنی جان کو شدید خطرے میں ڈال کر تین تین کے گروپوں میں اڑان بھرتیں جن میں دو جہاز آگے اور ایک پیچھے اڑتا۔اگلے دو جہاز ٹارگٹ کے اوپر پہنچ کر دائی بائیں مڑ جاتے اور جب دشمن کی طیارہ شکن توپیں ان کا تعاقب کرتیں تو پیچھے آ نے وال تیسرا جہاز ٹارگٹ کے پرخچے اڑادیتا۔
ان بہادر خواتین نے 1000کامیاب مشن مکمل کیے جن کے دوران ان کی خطرناک فضائی حکمت عملی انتہائی کامیاب رہی۔اور ان میں سے ایک چوتھائی سے زائد کو روس کے اعلیٰ ترین اعزاز" ہیرو آف دی سوویت یونین "سے نوازا گیا۔
یہ دوسری جنگ عظیم کی بات ہے کہ روس کا سٹالن گراڈ جرمنی کی سکستھ آرمی کے گھیراﺅ میں تھا ،لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے تھے اور بے شمار بھوک سے مر رہے تھے۔روسی حکومت کے پاس پائلٹوں کی شدید کمی واقع ہو چکی تھی جس کی وجہ سے خواتین پائلٹوں کو جنگی خدمات کے لئے منتخب کرنے کافیصلہ کیا گیا اور1941 میں 588ویں نائٹ بمبار رجمنٹ کاقیام عمل میں لایا گیا جسے عرف عام میں نائٹ وچز (رات میں حملہ کرنے والی چڑیلیں)بھی کہا جاتا ہے ۔
اس ہوا باز فوج میں صرف خواتین شامل تھیں جو روس کے ایک مشہور پرائیو یٹ فلائنگ کلب کی تربیت یافتہ تھیں ۔مشہور خاتون ہواباز میجر مرینہ راسکوواکی قیادت میں ان خواتین پائلٹوں نے جس بہادری اور جرات کا مظاہرہ کیا اسے آج تک یاد کیا جاتا ہے۔
مختصر ٹریننگ کے بعد انہوںنے Polikartov PO-2نامی روسی جہازوں سے جرمن ٹھکانوں پر ہزاروں تابڑ توڑ حملے کیے جس کی وجہ سے دشمن بر ی طرح لڑکھڑا گیا۔
یہ خواتین اپنی جان کو شدید خطرے میں ڈال کر تین تین کے گروپوں میں اڑان بھرتیں جن میں دو جہاز آگے اور ایک پیچھے اڑتا۔اگلے دو جہاز ٹارگٹ کے اوپر پہنچ کر دائی بائیں مڑ جاتے اور جب دشمن کی طیارہ شکن توپیں ان کا تعاقب کرتیں تو پیچھے آ نے وال تیسرا جہاز ٹارگٹ کے پرخچے اڑادیتا۔
ان بہادر خواتین نے 1000کامیاب مشن مکمل کیے جن کے دوران ان کی خطرناک فضائی حکمت عملی انتہائی کامیاب رہی۔اور ان میں سے ایک چوتھائی سے زائد کو روس کے اعلیٰ ترین اعزاز" ہیرو آف دی سوویت یونین "سے نوازا گیا۔