انٹر نیٹ صارفین کی مکروہ حرکت نے خاتون ٹیچر کو دنیا بھر میں رسوا کر دیا
بیونس آئرس ( نیوز ڈیسک ) حال ہی میں انٹرنیٹ پر ایک فحش ویڈیو سامنے آئی جس میں ارجینٹینا کی ایک سکول ٹیچر کو اپنے شاگرد کے ساتھ شرمناک حرکات کرتے دیکھایا گیا تھا. بتایا گیا کہ طالبعلم نے یہ ویڈیو اپنے دوستوں کو بھیجی جس کے بعد صارفین یہ ایک دوسرے کو بھیجتے رہے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ دنیا بھر میں پھیل گئی . اس خبر کو دنیا بھر کے اخبارات نے نمایاں جگہ دی اور استانی پر بھرپور تنقید بھی کی گئی . کئی تعلیمی ماہرین نے اسے نظام تعلیم کی ناکامی قرار دیا اور متعلقہ محکمہ سے سخت ترین کاروائی کی اپیل بھی کی . غرضیکہ اس کے بعد لوسینا سینڈووال نامی اس استانی کی زندگی اجیرن ہو گئی۔اب " نوووڈیاریو" نامی خبر رساں ادارے نے یہ انکشاف کیا ہے کہ دراصل اس شریف استانی کو بدترین مذاق کا نشانہ بنایا گیا ہے کیونکہ ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون کی اس سے شکل ملتی ہے جبکہ اصل میں اس کا ویڈیو سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
ادارے کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون کا تعلق ایک دوسرے شہر سے ہے اور اس کے ساتھی کے بارے میں بھی انکشاف ہوا ہے کہ وہ لوسیتا کے سکول کا طالب علم نہیں بلکہ ایک کالج کا طالب علم ہے۔
یہ خبر بھی جھوٹی ثابت ہوئی ہے کہ قابل اعتراض حرکات پر لوسیتا کے خلاف انضباتی کاروائی کی جا رہی ہے ۔یہ واضح نہیں ہو سکا کہ فحش ویڈیو کس کی طرف سے انٹرنیٹ پر بھیجی گئی اور یہ کہ لوسیتا کو اس معاملے میں کیوں ملوث کیا گیا۔
ادارے کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون کا تعلق ایک دوسرے شہر سے ہے اور اس کے ساتھی کے بارے میں بھی انکشاف ہوا ہے کہ وہ لوسیتا کے سکول کا طالب علم نہیں بلکہ ایک کالج کا طالب علم ہے۔
یہ خبر بھی جھوٹی ثابت ہوئی ہے کہ قابل اعتراض حرکات پر لوسیتا کے خلاف انضباتی کاروائی کی جا رہی ہے ۔یہ واضح نہیں ہو سکا کہ فحش ویڈیو کس کی طرف سے انٹرنیٹ پر بھیجی گئی اور یہ کہ لوسیتا کو اس معاملے میں کیوں ملوث کیا گیا۔