Thursday, 6 November 2014

66سال بعد انتہائی نایاب حیرت انگیز جانور افغانستان میں نمودار

News

   سال بعد انتہائی نایاب حیرت انگیز جانور افغانستان میں نمودار66

    کابل (نیوز ڈیسک ) دنیا کے نایاب ترین جانوروں میں شمار ہونے والا پر اسرار ڈریکولا ہرن 66 سال تک انسانی خطروں سے اوجھل رہنے کے بعد ایک دفعہ پھر افغانستان میں ظاہر ہو گیا ہے۔ڈریکولا جیسے لمبے دانتوں والے اس ہرن کو آخری مرتبہ 1948 میں دیکھا گیا تھا اور اب سائنسدانوں نے اسے افغانستان میں ڈھونڈ نکالا ہے۔
    وائلڈ لائف کنزرویشن سوسائٹی کے سائنسی جریدے میں چھپنے والے مضمون میں بتایا گیا ہے کہ یہ نایاب ہرن ایک صدی پہلے تک پاکستان ، بھارت اور افغانستان کے پہاڑوں میں پایا جاتا تھا لیکن اس کے جسم میں پائے جانے والے ایک قیمتی خزانے کی وجہ سے اسے بے پناہ شکار کر کے ختم کر دیا گیا۔
    اس ہرن کے جسم میں مشک نامی خوشبودار مادہ پایا جاتا ہے جو دور قدیم میں شاندار خوشبویات بنانے کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے ۔آج کے دور میں بھی مشک کی قیمت سونے کی قیمت سے تین گنا زیادہ ہے ۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس نسل کے نر میں ڈریکولا جیسے لمبے دانت پائے جاتے ہیں جسے یہ جانور افزائش نسل کے سیزن میں ایک دوسرے سے لڑنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

    RELATED POSTS