Thursday, 6 November 2014

وہ امریکی جیل جہاں داعش پیدا ہوئی

News

وہ امریکی جیل جہاں داعش پیدا ہوئی

    واشنگٹن (نیوز ڈیسک) شام اور عراق کی سرزمین کے ساتھ ساتھ اس وقت مغربی دنیا بھی عسکریت پسند تنظیم دولت اسلامیہ (آئی ایس) یا داعش کے نام سے گونج رہی ہے اور اب بھارت اور پاکستان میں بھی ان خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے کہ تنظیم ادھر کا رخ کررہی ہے۔آج امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ ملکر آئی ایس کو انسانیت اور عالمی امن کا سب سے بڑا دشمن قرار دے چکا ہے لیکن اب مغربی دانشور اور صحافی بھی کہہ رہے ہیں کہ اسے بنانے میں سب سے بڑا اور بنیادی کردار امریکہ کا ہی تھا۔ 
    یہ سال 2009ءکی بات ہے کہ جب عراق کے جنوبی شہر گارما میں واقع امریکی جیل کیمپ بکہ سے سینکڑوں قیدیوں کو رہا کردیا گیا، ان لوگوں کو امریکی افواج پر حملہ کرنے والے خطرناک مجرم قرار دے کر گرفتار کیا گیا تھا۔مقامی پولیس کے سربراہ سعد عباس نے امریکی اخبار ”واشنگٹن پوسٹ“ کو بتایا کہ ان قیدیوں میں سے 90 فیصد جنگجو سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے۔رہا کئے گئے قیدیوں میں آئی ایس کے موجودہ سربراہ ابوبکرالبغدادی کے علاوہ ابومسلم الترکمانی اور حاجی بکر جیسے نام شامل تھے جو بعد میں آئی ایس کے نمایاں ترین نام بنے۔ریسرچ ادارے Soufan Group کے مطابق کیمپ بکہ کو آئی ایس کی کہانی کا پہلا باب کہا جاسکتا ہے۔
    ادارے کی تحقیق کے مطابق یہاں قید کئے گئے اکثر لوگ امریکی فوج پر حملوں میں ملوث نہ تھے، اگر کوئی حملے والی جگہ کے قریب بھی پایا جاتا تو اسے گرفتار کرکے اس جیل میں ڈال دیا جاتا۔یہاں صدام حسین کی بعث پارٹی کے لوگ بھی قید کئے گئے جن کے پاس وسیع فوجی تجربہ تھا اور ایسے بے گناہ بھی قید کئے گئے جو اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کا بدلہ لینے کیلئے جنگجو بن گئے اور یوں بعث پارٹی کے لوگوں کی فوجی مہارت اور بدلے کی آگ میں سلگنے والے قیدیوں کے اتحاد نے ایک خوفناک جنگجو تنظیم کی بنیاد رکھ دی جس کے نام سے آج ساری  دنیا لرز رہی ہے۔ ادارے Soufan Group کی تحقیق واضح کرتی ہے کہ آئی ایس کا سب سے بڑا مخالف امریکہ خود ہی اس کی تخلیق کا سبب ب

    RELATED POSTS