Thursday, 6 November 2014

ISISکی کامیابیاں ،پروفیسر نے امریکہ کو آئینہ د کھا دیا

News

کی کامیابیاں ،پروفیسر نے امریکہ کو آئینہ د کھا دیاISIS

    واشنگٹن (نیوز ڈیسک) مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دے کر عراق، افغانستان اور دیگر مسلمان ملکوں پر تباہی مسلط کرنے والے امریکہ کو اپنے ہی دانشور نے آئینہ دکھادیا جس پر انسانی حقوق اور امن کا یہ نام نہاد علمبردار سخت سیخ پاہوگیا ہے۔ یونیورسٹی آف ایریزونا کے پروفیسر موسیٰ الغربی نے اپنے ایک تازہ مضمون میں امریکہ کو شامی عسکریت پسند گروپ دولت اسلامیہ (آئی ایس) سے بھی بڑا دہشت گرد اور امن کا دشمن قرار دے دیا ہے۔ پروفیسر موسیٰ یونیورسٹی کے گورنمنٹ اینڈ پبلک سروس شعبہ میں استاد کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں خواتین پر ظلم کا بہت واویلا کیا اور اسی طرح شام اور عراق میں دولت اسلامیہ پر فضائی حملوں کیلئے بھی یزیدی اور کرد خواتین پر ظلم کو بہانہ بنایا لیکن اگر ایمانداری سے دیکھیں تو امریکی افواج کسی بھی دہشت گرد سے زیادہ جرائم میں ملوث ہیں۔
    ان کا کہنا ہے کہ عراق میں امریکی فوجیوں نے ہزاروں خواتین کی عصمت دری کی اور اپنے شرمناک کرتوتوں کی تصاویر اور ویڈیوز بنا کر ایک دوسرے کو بھیجتے رہے۔ اسی طرح قیدی خواتین کی عصمت دری کی گئی اور اس بھیانک جرم کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔
    پروفیسر موسیٰ نے امریکی افواج کے ماورائے قانون جنگی حربوں اور معصوم شہریوں کے قتل کا بھی ذکر کیا اور نتیجہ اخذ کیا کہ اس طرح تو امریکہ عالمی امن کیلئے کسی بھی دہشت گرد تنظیم سے زیادہ بڑا خطر ہے۔
    انہوں نے خصوصاً اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ دہشت گرد کم از کم اپنی خواتین کی تو حفاظت کرتے ہیں لیکن امریکی افواج نے تو اپنی ہم وطن اور ساتھی خواتین کو بھی معاف نہیںکیا اور اب تک فوج میں کام کرنے والی ہزاروں خواتین کا ریپ کیا جاچکا ہے۔
    اس مضمون کی اشاعت کے بعد متعدد امریکی دانشوروں اور حکومتی حلقوں کی طرف سے شدید احتجاج کیا جارہا ہے اور پروفیسر موسیٰ اور ان کی یونیورسٹی پر پابندیاں لگانے پر غور کیا جارہا ہے۔

      RELATED POSTS