اسامہ بن لادن کی موت ،امریکی خفیہ ایجنسی کا جھوٹ بے نقاب
القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد میں کیا گیا امریکی آپریشن پہلے دن سے ہی مشکوک رہا ہے اور اب خود امریکی اداروں نے اس آپریشن کے حوالے سے بولے گئے جھوٹ کا پردہ چاک کرنا شروع کردیا ہے۔
امریکی سی آئی اے کا موقف تھا کہ ان کے متنازعہ طریقہ تفتیش کی وجہ سے ہی یہ ممکن ہوا کہ اسامہ بن لادن کے قاصد کا پتہ چلایا جاسکا جو بعدازاں اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی کا پتہ چلانے میں مددگار ثابت ہوا۔ سی آئی اے کا کہنا تھا کہ ابو احمد الکویتی نامی قاصد کے بارے میں معلومات ایک قیدی پر سخت تشدد کی وجہ سے ہی حاصل کی جاسکیں۔ واضح رہے کہ سی آئی اے جسے سخت تشدد قرار دیتی ہے وہ دراصل غیر انسانی طریقہ تفتیش ہے، جس میں قیدی کا سر مونڈھ کر اور اسے برہنہ کرکے کئی گھنٹوں تک دیوار کے ساتھ کھڑا رکھنے اور تقریباً 50 گھنٹے کیلئے نیند سے محروم رکھنا بھی شامل ہے۔
امریکی سینیٹ کی حالیہ رپورٹ میں سی آئی اے کے طریقہ تفتیش کو متنازعہ قرار دیا گیا ہے اور یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ اسامہ بن لادن کے قاصد کے بارے میں سی آئی اے کا موقف جھوٹ پر مبنی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تشدد پر مبنی طریقہ تفتیش کا معلومات حاصل کرنے میں کوئی کردار نہ تھا اور باوجود اس کے کہ غیر قانونی طریقے استعمال کئے گئے، قیدیوں سے کوئی قابل ذکر معلومات حاصل نہ ہوسکیں۔ ان انکشافات کے بعد پہلے سے مشکوک ایبٹ آباد آپریشن کے بارے میں مزید سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔
امریکی سینیٹ کی حالیہ رپورٹ میں سی آئی اے کے طریقہ تفتیش کو متنازعہ قرار دیا گیا ہے اور یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ اسامہ بن لادن کے قاصد کے بارے میں سی آئی اے کا موقف جھوٹ پر مبنی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تشدد پر مبنی طریقہ تفتیش کا معلومات حاصل کرنے میں کوئی کردار نہ تھا اور باوجود اس کے کہ غیر قانونی طریقے استعمال کئے گئے، قیدیوں سے کوئی قابل ذکر معلومات حاصل نہ ہوسکیں۔ ان انکشافات کے بعد پہلے سے مشکوک ایبٹ آباد آپریشن کے بارے میں مزید سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔
