Monday, 15 December 2014

دنیا کا وہ منفرد مقام جہاں لوگ خود کشی کرنے جاتے ہیں

News
دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب برپا کرنے والے جاپان کے جنگلوں میں ایک ایسی جگہ بھی موجود ہے جہاں لوگ صرف اور صرف خودکشی کرنے جاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ جنگلات منحوس ہیں اور بد روحوں کا بسیرا ہیں اور یہاں خودکشی کرنے والوں کو آسانی محسوس ہوتی ہے۔ Aokigaharaنامی یہ جنگل مشہور زمانہ ماﺅنٹ فیوجی کی شمال مغربی سمت میں واقع ہے۔یہ جنگل تقریباً 35مربع کلومیٹر پرواقع ہے اور دیکھنے میں کافی دلکش محسوس ہوتا ہے لیکن اس کی خوبصورتی پر ہر گز نہیں جانا چاہیے۔
امریکی بحریہ کی جاسوس روبوٹ مچھلی ”سائلنٹ نیمو“ کی کامیاب آزمائش تفصیلات جاننے کیلئے کلک کریں  
اس جنگل میں پہلا قدم رکھنے کے بعد سب سے پہلے جو چیز ذہن میں آتی ہے وہ یہاں کی پر اسرار خاموشی ہے جس سے انسان کو وحشت آنے لگتی ہے۔بہت زیادہ درختوں کی وجہ سے زمین پر سورج کی شعاعیں نہیں پہنچ پاتیں اور ہوا انتہائی سرد اور اور ہر چیز تاریکی میں ڈوبی ہوتی ہے۔یہ بھی ایک پر اسرار حقیقت ہے کہ یہاں جانوروں اور حشرات کی تعداد بھی نہ ہونے کے برابر ہے اور نہ چڑیوں کے چہچہانے کی آواز ہے اور نہ ہی کسی شیر کی دھاڑ۔ آپ کو ایسا محسوس ہوگا کہ یہ تمام جانور ،پرندے اور حشرات شاید کسی ان دیکھی چیز سے چھپنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس جنگل کی جو سب سے ہولناک بات ہے وہ یہ ہے کہ لوگ یہاں آکر خودکشی کرتے ہیں۔اس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ مرنے کے لئے سب سے بہترین جگہ ہے جہاں لوگ مرنے کے لئے جاتے ہیں۔ گولڈن گیٹ بریج سان فرانسسکو کے بعد یہ جنگل دوسری ایسی جگہ ہے جہاں لوگ مرنے کے لئے جاتے ہیں۔1950کی دہائی کے بعد اس جنگل میں مرنے والوں کی تعداد میں روز براز اضافہ ہو رہا ہے اور صرف 2003ءمیں 108لوگوں نے یہاں آکر اپنی زندگی کا خاتمہ کیالیکن کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہے جس کی وجہ جنگل کا وسیع و عریض رقبہ اور کئی حصوں تک لوگ شاذوناذر ہی جاتے ہیں ،آئے روز ایسے لوگوں کے جسد خاکی ملتے رہتے ہیں جنہوں نے خودکشی کی ہوتی ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ تین طرح کے لوگوں کو باآسانی پہچانا جا سکتا ہے ،ایک ایسی طرح کے لوگ جو ماﺅنٹ فیوجی دیکھنے آتے ہیں، دوسرے جو جنگل کی ہیبت اور تیسرے جو اپنی زندگی ختم کرنے آتے ہیں۔
یہ بات بھی انتہائی پر اسرار معلوم ہوتی ہے کہ یہاں compassبھی کام نہیں کرتی لیکن سائنسدان اس کی توجیح یہ دیتے ہیں کہ ماﺅنٹ فیوجی کے گردموجود آئرن کے ذخائر کی وجہ سے کمپاس ٹھیک طریقے سے کام نہیں کرتااور یہی وجہ ہے لو گ یہاں راستہ بھول جاتے ہیں۔اس جنگل میں آپ کو کئی پر اسرار چیزیں اور کھلونے ملیں گے۔ ایک گڑیا جس کی آنکھیں کھلی ہیں اور وہ آسمان کی طرف دیکھ رہی ہے تو اس قدر ہیبت ناک لگے گی کہ آپ کا دل چاہے گا کہ یہاں سے فوراً بھاگ جائیں۔ان تمام باتوں کے باوجود لوگ یہاں سیر کو آتے ہیں اور یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا جو باتیں انہوں نے سن رکھی ہیں ان میں کوئی سچائی بھی ہے یا یہ صرف خیالی ہیں لیکن جب وہ اس جنگل میں ایک بار آجاتے ہیں تو پھر دوبارہ اس طرف منہ کرنے کا بھی نہیں سوچتے۔

RELATED POSTS