Thursday, 11 December 2014

نزلہ زکام کے بارے میں وہ جھوٹ جنہیں آپ سچ سمجھتے ہیں

News

نزلہ زکام کے بارے میں وہ جھوٹ جنہیں آپ سچ سمجھتے ہیں

    لند ن کیا یہ زکام سے متعلق آگاہی کا موسم نہیں ہے؟ موسم سرما کی آمد آمد ہے لہٰذا اس موسم میں زکام کے متعلق مکمل آگاہی حاصل کریں تاکہ اس موسم میں آپ نزلے ،زکام کی بیماری سے محفوظ رہ سکیں۔اس کے علاوہ زکام سے متعلق پھیلی فرضی کہانیوں سے آگاہی ضروری ہے جن سے متعلق ۔
    آپ کو کیا جاننے کی ضرورت ہے
    زکام کا ہر موسم اکتوبر سے شروع ہو کر جنوری تک اور امریکہ میں فروری تک رہتا ہے اور اس وائرس سے ہر سال بیس فیصد لوگ متاثر ہوتے ہیں جس سے وابستہ علامات سنجیدہ اور بعض صورتوں میں مہلک بھی ہوتی ہیں جن میں سردی بخاربند ناک اور جسم درد شامل ہیں لیکن اس کے باوجود زکام کے متعلق بہت سی فرضی کہانیاں مشہور ہیں حالانکہ ماہرین نے ایسی کوئی پیش گوئی نہیں کی کہ اس سال زکام ماضی کی نسبت زیادہ ہوگا یا کم، لہٰذا آپ پر لازم ہے کہ اس خطرناک وائرس سے متعلق آگاہی حاصل کریں تاکہ اس سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے بچا جائے ذیل میں عوام کی آگاہی کے لیے ان فرضی کہانیوں کا مختصر تذکرہ کیا جا رہا ہے۔
    1۔ زکام کی ویکسین لگوانے کے باوجود زکام ہو سکتا ہے 
    نیویارک سٹی کے ڈاکٹر ہولی فلپ کہا ہے کہ ©یہ ایک افواہ کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ© ©©©ِ
    زکام کی ویکسین لینے کے بعد بھی آدمی کو یہ مرض لاحق ہو جاتا ہے لہٰذا اسے لینے کا کوئی خاص فائدہ نہیں، یہ ایک فرضی کہانی ہے،حقیقت یہ ہے کہ فلو کی ویکسین اس جراثیم کے مردہ حصوں کو لے کر بنائی جاتی ہے یہ چونکہ یہ وائرس زندہ نہیں ہوتا لہٰذا اس سے فلو کے انفیکشن کا پھیلاﺅ ممکن نہیں ہوتا۔ جہاں تک ناک کے ذریعے لی جانے والی فلو کی ویکسین Flu Mistکا سوال ہے تواس کا استعمال بچوں اور بڑوں میںFDA کی طرف سے منظور شدہ ہے اور اسے معذور وائرس سے بنایا جاتا ہے اور اس سے بھی انسان بیمار نہیں ہوتا۔زکام سے متعلق اس غلطی کی وجہ یہ ہے کہ جب آپ فلو کی ویکسین لیتے ہیں تو آپ کے جسم کو اس کے خلاف اینٹی باڈیز بنانے میں ایک ہفتے کا وقت درکار ہوتا ہے اس سے پہلے اگر مریض کو زکام ہو جائے تو اس میں ویکسین کا کوئی قصور نہیں۔ یہ محض ایک اتفاق ہے۔
    2۔ صحت مند نوجوانوں کو زکام سے ڈرنے کی ضرورت نہیں
    یہ حقیقت کہ ہے فلو کے وائرس سے بچے اور عمر رسیدہ لوگ زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور صحت مند لوگوں میں یہ بیماری بہت کم دیکھنے میں آتی ہے لیکن یہ کہنا غط ہے کہ اس بیماری سے نوجوان صحت مند طبقہ مبرا ہے اسی لئے ڈاکٹر فلپس کہتی ہے کہ LDC نے ہر عمر کے لوگوں کے لئے فلو ویکسین ضروری قرار دی ہے۔اگر آپ کا شمار خطرے کی بلند سطح والے لوگوں میں نہیں بھی ہوتا تب بھی آپ اس بیماری کو آگے پھیلانے کا باعث ہوتے ہیں لہٰذا جس قدر لوگ زکام کی ویکسئین استعمال کریں گے اسی قدر نزلے کے مریضوں میں کمی ہوگی۔
    3۔ زکام کی علامات میں پیٹ کی علامات بھی شامل ہیں
    زکام کی علامات کی طرح ہاضمے کی خرابی کی علامتیں بھی ناقابل برداشت ہوتی ہیں بعض اوقات زکام کی علامات کے ساتھ پیٹ کی خرابی کی علامتیں مثلاًاسہال ؛متلی،وغیرو بھی شامل ہو جاتی ہیں جنہیں ہم سادگی سے پیٹ کا زکام بھی کہتے ہیں حالانکہ انفلیواینزا پیٹ کی کوئی بیماری پیدا نہیں کرتا۔دراصل بعض اوقات انفلیواینزا کے ساتھ معدے کی بیماری پیدا کروالے جراثیم بھی اپنی انفرادی حیثیت میں حملہ آور ہوتے ہیں لہٰذا ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پیٹ کی خرابی کی یہ علامات بھی زکام کی علامات ہیں حالانکہ یہ غلط ہے۔
    4دوران حملہ فلو کی ویکسئن ممنوع ہے
    یہ نظریہ بھی غلط ہے کیونکہ فلو کی ویکسین مکمل طور پر محفوظ ہوتی ہے اور نزلے کے موسم میں جتنی جلدی ہو سکے اس کے ٹیکے لگوا لینے چاہئیں کیونکہ دوران حمل فلو کی ویکسین لگوانے والی عورتیں نہ صرف خود فلو کی علامات سے محفوظ رہتی ہیں بلکہ وضع حمل کے بعد ان کا بچہ بھی کئی ماہ تک فلو کی علامات سے بچا رہتا ہے۔ڈاکٹر فلپ کے بقول چھ ماہ کے بچے کو فلو کی ویکسین لگوائی جا سکتی ہے۔
    5۔ بہت زیادہ ہاتھ دھونے سے زکام نہیں ہوتا
    یہ ایک غلط تاثر ہے حالانکہ ہم صابن اور پانی سے ہاتھ دھوتے ہیں جو انفلیواینزا کی روک تھام کے لئے کافی نہیں ہوتے انفلیوالینزا ہوا میں پھیلے فلو کے مریض کے تھوک کے اجزاءکی وجہ سے پھیلتا ہے جسے کھانستے یا چھینکتے ہوئے وہ ہوا میں چھوڑتاہے ہوا میں موجود یہ چھوٹے چھوٹے قطرے ناک، آنکھ اور منہ کے ذریعے ہم تک پہنچتے ہیں اس کے علاوہ زکام کا وائرس گندگی اور آلودہ جگہوں کو چھونے سے بھی پھیلتا ہے اس لئے اپنے ہاتھوں کو صابن پانی سے دھونا مفید ہوتا ہے لیکن یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ہاتھ دھونے سے ہم زکام کو ہونے سے روک سکتے ہیں۔
    6۔ جب زکام ہوجاتا ہے تو ویکسین کام نہیں کرتی
    فلو کی ویکسین خسرہ اور پولیو جیسی نہیں ہے جو آپ کو سو فیصد تحٰظ فراہم کرتی ہیں، عام طور پر فلو ویکسین ساٹھ سے نوے فیصد تک موثر ہوتی ہے کیونکہ فضا میں کئی قسم کے زرات موجود ہوتے ہیں اور سائنسدانوں کے لئے یہ کہنا مشکل ہوتا ہے کہ کون سا ذرہ غالب آئے گا۔اگر آپ کو ویکسین لگوانے کے بعدبھی فلو ہوتاہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کسی ایسے ذرے سے چھو گئے ہیں جو ویکسین میں موجود نہ تھا اس صورت میں زکام تو ہو سکتا ہے لیکن اس کی علامات شدت اختیار نہیں کرتیں لہٰذا یہ ذہن میں رکھیں کہ فلو کی پوری ویکسین آپ کو ہسپتال جانے اور بعض صورتوں میں موت سے بچا لیتی ہے۔
    7۔جراثیم کش ادویہ فلو کے خلاف لڑ سکتی ہیں
    اس سلسلے میں بحث کرکے اپنی ڈاکٹر کو تنگ مت کریں کیونکہ اینٹی بائیوٹکس جراثیم کش ادویات ہونے کے ناطے وائرسوں کے خلاف کام نہیں کرتیں ہاں اگر عمومی صورت میں نسخے میں کوئی اینٹی وارئس دوائی تجویز کی جائے تو وہ اس سلسلے میں آپ کی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ہائی رسک مریض شدید علامات سے بچنے کے لئے Tamifluلے سکتے ہیں ورنہ بہتر یہی ہے کہ گھر میں آرام کیا جائے اور بخار، درد یا بند ناک کی علامتی دوائی لی جائے۔
    8۔ فلو ویکسین کے نتیجے میں چہرے کا فالج ہوتا ہے
    بیلز پالسی ایک قسم کی کمزوری اور چہرے کے فالج کو کہتے ہیں جو منہ کے ایک طرف ہوتا ہے عام طور پر یہ عارضی نوعیت کا ہوتا ہے اور کچھ ہفتوں کے بعد ٹھیک ہو جاتا ہے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایسا کسی مخصوص وائرس مثلاً کی وجہ سے ہوتا ہے دراصل کچھ دہائی پہلے فلو ویکسین لگوانے کے بعد کچھ لوگ بیلز پالیسی کے ساتھ دیکھنے میں آئے لیکن اس بات کے شواہد نہیں ملے کہ ان کا تعلق فلو ویکسین سے ہے۔
    9۔ فلو ویکسین سے الزیمر کی بیماری ہوتی ہے
    فلو ویکسین سے کسی قسم کی کوئی بیماری یا مریضانہ حالت پیدا نہیں ہوتی جن میں الزیمر کی بیماری بھی شامل ہے۔ڈاکٹر لیوے کہتے ہیں کہ الزیمر ایک مخصوص قسم کا نسیان ہے جس میں یادداشت
    ختم ہو جاتی ہے اور دیگر دماغی تبدیلیاں بھی رونما ہوتی ہیں، اس غلط نظریے کی وجہ یہ ہے کہ عمر رسیدہ اشخاص کو ہر سال فلو ویکسین تجویز کی جاتی ہے اور دوسری طرف الزیمر بذات خود بڑھاپے کی بیماری ہے جب کچھ بوڑھوں نے فلو ویکسین استعمال کی اور اس کے کچھ عرصہ بعد عمر رسیدگی کی وجہ سے الزیمر کا شکار ہو گئے تو بعض لوگوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ چونکہ یہ لوگ فلو ویکسین لے رہے تھے اس لئے انہیں الزیمر کا مرض لاحق ہوگیا حالانکہ فلو اور الزیمر کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔

    RELATED POSTS