یونیورسٹی پروفیسر کو دھوکہ دینا چینی ریسٹورنٹ کو بہت مہنگاپڑا
عالمی شہرت یافتہ ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک مشہور پروفیسر نے کھانے کے بل میں چار ڈالر اضافی وصول کرنے والے ریسٹورنٹ کے خلاف بھرپور قانونی جنگ کا آغاز کردیا ہے کیونکہ انہیں ہر صورت اپنی رقم واپس چاہیے اور ان کے خیال میں غیر قانونی حرکت کرنے والے ریسٹورنٹ کو سخت سزا بھی ملنی چاہیے۔
پروفیسر بین ایڈلمین بزنس ایڈمنسٹریشن کے سینئر استاد ہیں اور وہ مائیکرو سافٹ اور ”نیویارک ٹائمز“ جیسے بڑے بڑے اداروں کو آن لائن فراڈ سے بچنے کے متعلق مشاورت بھی فراہم کرتے ہیں۔ پروفیسر صاحب نے آن لائن آرڈر کے ذریعے چینی ریسٹورنٹ سشوان گارڈن سے کھانا منگوایا لیکن یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ویب سائٹ پر بتائے گئے ریٹ کی نسبت چار ڈالر زیادہ لے لئے گئے تھے۔
انہوں نے ریسٹورنٹ کے مینجر کو ای میل بھیجی کہ وہ قانون کے مطابق ناجائز وصول کی گئی رقم کا تین گنا ادا کریں اور معافی بھی مانگیں۔ ریسٹورنٹ کا کہنا تھا کہ وہ چار ڈالر واپس کردیں گے لیکن پروفیسر صاحب نے اس پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے معاملہ حکومتی اداروں کے حوالے کردیا ہے۔ اب وہ کہہ رہے ہیں کہ ریسٹورنٹ بے شمار گاہکوں کے ساتھ یہ دھوکہ کر چکا ہے لہٰذا اسکی ویب سائٹ بھی بند ہونی چاہیے، البتہ رقم کا مطالبہ اب بھی 12 ڈالر ہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام کو جاگنے کی ضرورت ہے کیونکہ کسی دکاندار کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ایک ایک روپیہ کرکے ہمیشہ آپ کی جیب کاٹتا رہے اور آپ محض اس لئے خاموش رہیں کہ اتنی تھوڑی سی رقم کیلئے لڑائی مناسب نہیں۔
