Sunday, 11 January 2015

گستاخانہ خاکے شائع کرنے والے میگزین پر ماضی میں کس معمولی سی بات پر پابندی لگائی گئی، آپ جان کر حیران رہ جائیں گے

News
مغرب میں دہرے معیار کا یہ عالم ہے کہ اسلام کے خلاف ہر قسم کی شر انگیزی ”آزادی اظہار“ کی آڑ میں جائز ہے لیکن یہ شرانگیزی کرنے والی مطبوعات اگر اپنی اقدار اور اکابرین کے خلاف معمولی سی بات بھی کر دیں تو سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کچھ یہی حال فرانس میں حملے کا نشانہ بننے والے میگزین ©©"چارلی ایبڈو "کا بھی ہے ، اس کی مینجمنٹ کے تحت نکالے جانے والے ایک جریدے نے  1970ءمیں فرانسیسی صدر چارلس ڈی گال کی وفات کے موقع پر محض ایک غیر سنجیدہ سرخی لگانے پر بند کر دیا گیا۔
چارلس ڈی گال نے اپنے گاﺅں کولمبے میں آخری سانسیں لیں۔ ان کی موت سے آٹھ دن قبل ایک نائٹ کلب میں حادثے کے باعث 146 لوگ ہلاک ہو چکے تھے اور میگزین کا خیال تھا کہ مقامی میڈیا نے اس کی خبریں غیر مناسب انداز میںشائع کی تھیں۔اسی غیر ذمہ داری کا مذاق اڑانے کیلئے انہوں نے فرانسیسی صدر کی موت کو غیر سنجیدہ الفاظ ”کولمبے میں المناک رقص، ایک ہلاک“ میں بیان کیا۔ اس غیر سنجیدگی کی وجہ سے اسے بند کر دیا گیا اور پھر اگلے 20 سال تک یہ منظر عام پر نہ آ سکا، بالآخر یہ جریدہ'چارلی ایبڈو  'کے نام سے دوبارہ منظر عام  آیا  ۔ یہی میگزین بار بار اسلام کے بارے میں توہین آمیز مواد شائع کر چکا ہے لیکن حکومت کی طرف سے کبھی اسے ایک لفظ تک نہ کہا گیا یہاں تک اس پر حملے کا واقع پیش آ گیا جس میں 12 افراد ہلاک ہوئے۔

RELATED POSTS