Friday, 23 January 2015

مانع حمل گولیوں پر تحقیق میں لرزہ خیز انکشاف، ڈاکٹروں نے خبردار کردیا

News
 خواتین میں برتھ کنٹرول ( ضبط ولادت) کیلئے مانع حمل گولیوں کا استعمال ایک مقبول اور آسان طریقہ سمجھا جاتا ہے لیکن ایک حالیہ سائنسی تحقیق کے مطابق مانع حمل گولیاں اور چند دیگر ایسے طریقے جو کہ مرد کی بجائے خواتین کی ذمہ داری ہوتے ہیں، خواتین میں دماغ کے کینسر کی شرح بڑھا سکتے ہیں۔
یہ تحقیق یونیورسٹی آف ساﺅدرن ڈنمارک کے سائنسدانوں نے کی ہے اور اس میں 15 سے 44 سال عمر کی 2,000 سے زائد خواتین کا مطالعہ کیا گیا۔ تحقیق کے مطابق مانع حمل گولیاں، ہارمون خارج کرنے والا آلہ IUD یا کوائل استعمال کرنے والی خواتین میں دماغ کی رسولی Glioma کا خدشہ دوگنا بڑھ جاتا ہے۔ سب سے زیادہ نقصان دہ ان گولیوں کو قرار دیا گیا ہے جن میں صرف Progeostagen پایا جاتا ہے۔ ان کے استعمال سے کینسر کا خطرہ تین گنا بڑھ جاتا ہے۔ ”برٹش جرنل آف کلینیکل فارماکولوجی“ میں شائع کی گئی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ہارمون پروجیسٹرون astroeytoma نامی خلیوں کی افزائش تیز کر دیتا ہے جو دماغ میں رسولی کا باعث بنتا ہے۔ تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر ڈیوڈ گیٹ کا کہنا ہے کہ Glioma بیماری کی شرح نہایت معمولی ہے اور یہ عموماً ایک لاکھ میں سے صرف 5 خواتین کو ہو سکتی ہے لہٰذا گولی کے استعمال کے باوجود کینسر ہونے کی شرح نہایت معمولی ہے۔

RELATED POSTS