Friday, 31 October 2014

فِٹ رہنے کے چور راستے ۔۔۔

News

فِٹ رہنے کے چور راستے ۔۔۔

کیا گھریلو کام ورزش کا نعم البدل ہو سکتا ہے؟
مائیکل موزلے کہتے ہیں کہ ہر کوئی جِم نہیں جا سکتا لیکن اگر ہم روز مرہ کے معمولی کام کرتے رہیں تو بھی چاق و چوبند رہ سکتے ہیں۔
مثلاً آپ یہ کالم کھڑے ہو کر یا کمرے میں چہل قدمی کرتے ہوئے پڑھ سکتے ہیں، لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہم میں سے بیشتر لوگ زیادہ وقت بیٹھ کر سکرینوں کو گھورتے رہنے میں گزارتے ہیں۔
عموماً ہم گاڑی پر سفر کرتے ہیں، پیدل سفر اور سیڑھیوں سے بچتے ہیں اور اپنے ساتھ دفتر میں کام کرنے والوں کو ای میل کر دیتے ہیں، بجائے اس کے کہ تھوڑا دور چل کر ان تک جائیں اور روبرو بات کر لیں۔ ہم ایک سُست نسل ہیں اور ورزش نہ کرنے کی ایک عام وجہ وقت کی کمی کو قرار دیتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کتنی ورزش کافی ہے۔ کئی طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے میں درمیانے درجے کی جسمانی حرکت کے کم سے کم 150 منٹ، اور سخت محنت کے 75 منٹ کافی ہوتے ہیں۔ کسی بھی طرح کی حرکت فائدہ دے سکتی ہے لیکن اسے درمیانہ، شدید یا انتہائی شدید ہونا ضروری ہے اور اسی وجہ سے آپ دل کی بیماریوں، کینسر اور موٹاپے کے خطرے سے بچ سکتے ہیں۔

RELATED POSTS