بلاٹنگ پیپر یا کاغذ کے ذریعے ایبولا کا ٹیسٹ
ڈاکٹر اب ڈی این اے سے لیس بلاٹنگ پیپر یا کاغذ کے ذریعے بیماری کا آسانی سے ٹیسٹ کر سکیں گے جس کے نتائج 30 میں منٹ میں سامنے آ جائیں گے اور اس پر خرچہ بھی بہت کم ہوگا۔
سائنسدانوں نے صرف 20 ڈالر کا مواد استعمال کرتے ہوئے صرف 12 گھنٹے میں ایبولا کا پروٹو ٹائپ بنا کر اپنی ٹیسٹ کی تکنیک کو ثابت کر دیا۔
اس ٹیسٹ میں حیاتیاتی اجزا استعمال ہوتے ہیں جس میں آر این اے کے جنیاتی اجزا بھی شامل ہوتے ہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان اجزا کو ٹھنڈا اور خشک کرکے عام کاغذ پر بھی سٹور کیا جا سکتا ہے۔
تحقیقی ٹیم کے سربراہ جیم کولنز جو بوسٹن اور ہارورڈ دونوں یونیورسٹیوں میں تعینات ہیں، کہتے ہیں کہ ان حیاتیاتی اجزا کو صرف پانی ملانے سے متحرک کیا جا سکتا ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمیں اس بات پر حیرت ہوئی کہ ٹھنڈا اور خشک کرنے کے بعد ان اجزا نے کتنے اچھے طریقے سے کام کیا۔‘