Friday, 31 October 2014

بلاٹنگ پیپر یا کاغذ کے ذریعے ایبولا کا ٹیسٹ

News

بلاٹنگ پیپر یا کاغذ کے ذریعے ایبولا کا ٹیسٹ

جیم کولنز نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ایبولا کا موجودہ ٹیسٹ ایبولا کی وبا سے متاثرہ علاقوں کے لیے موزوں نہیں ہے
ڈاکٹر اب ڈی این اے سے لیس بلاٹنگ پیپر یا کاغذ کے ذریعے بیماری کا آسانی سے ٹیسٹ کر سکیں گے جس کے نتائج 30 میں منٹ میں سامنے آ جائیں گے اور اس پر خرچہ بھی بہت کم ہوگا۔
سائنسدانوں نے صرف 20 ڈالر کا مواد استعمال کرتے ہوئے صرف 12 گھنٹے میں ایبولا کا پروٹو ٹائپ بنا کر اپنی ٹیسٹ کی تکنیک کو ثابت کر دیا۔
اس ٹیسٹ میں حیاتیاتی اجزا استعمال ہوتے ہیں جس میں آر این اے کے جنیاتی اجزا بھی شامل ہوتے ہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان اجزا کو ٹھنڈا اور خشک کرکے عام کاغذ پر بھی سٹور کیا جا سکتا ہے۔
تحقیقی ٹیم کے سربراہ جیم کولنز جو بوسٹن اور ہارورڈ دونوں یونیورسٹیوں میں تعینات ہیں، کہتے ہیں کہ ان حیاتیاتی اجزا کو صرف پانی ملانے سے متحرک کیا جا سکتا ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمیں اس بات پر حیرت ہوئی کہ ٹھنڈا اور خشک کرنے کے بعد ان اجزا نے کتنے اچھے طریقے سے کام کیا۔‘

RELATED POSTS