Thursday, 30 October 2014

القاعدہ کا بنگلہ دیش پر حکمرانی کا منصوبہ ،بھارتی حکومت پریشان

News

القاعدہ کا بنگلہ دیش پر حکمرانی کا منصوبہ ،بھارتی حکومت پریشان

    نیودہلی (نیوز ڈیسک) مشرق وسطیٰ میں دولت اسلامیہ (آئی ایس) کے اعلان خلافت کے بعد اب ایک اور اعلان بنگلا دیش کے راستے بھارت میں خلافت کے قیام کے متعلق بھی کردیا گیا ہے۔ بھارت کی مشرقی ریاست بنگال میں سکیورٹی اہلکاروں کو ایسے کتابچے ملے ہیں جن میں مبینہ طور پر القاعدہ کی طرف سے پیغام دیا گیا ہے کہ ملک کے مشرق اور سمال مشرق میں اسلامی خلافت قائم کی جائے گی۔ مغربی بنگال اور آسام کو خصوصی طور پر اس خلافت میں شامل کرنے کی بات کی گئی ہے جبکہ انٹیلیجنس ماہرین کی رائے میں ریاست بہار اور جھاڑ کھنڈ کو بھی اس کا حصہ بنائے جانے کا منصوبہ ہے۔ کتابچے میں کہا گیا ہے کہ پہلے مرحلے میں بنگلا دیش میں شام جیسی خلافت قائم کی جائے گی تاکہ آسام، آرکان (برما کی ریاست راکھین کا پرانا نام) اور مغربی بنگال سے لوگ یہاں منتقل ہوسکیں۔ دریں اثنا بھارت کی سات ریاستوں میں علیحدگی پسند بغاوتیں شدت پکڑ جائیں گی جو کہ اس ملک کیلئے بہت بڑا دھچکا ثابت ہوگا۔ یہ کتابچہ ستمبر میں کئے گئے القاعدہ کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اس تنظیم کی بھارتی شاخ قائم کی جائے گی۔ ایک انٹیلی جنس اہلکار نے تصدیق کی کہ بہار اور جھاڑ کھنڈ میں القاعدہ کے سرگرم مراکز ہیں اور مغربی بنگال میں کام کرنے والے رکن ریاست جھاڑکھنڈ بھی آتے جاتے رہتے ہیں۔

    RELATED POSTS