Thursday, 30 October 2014

کیا واقعی سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان خفیہ ڈیل ہو ئی؟

News

کیا واقعی سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان خفیہ ڈیل ہو ئی؟

    برلن ( مانیٹرنگ ڈیسک ) کیا دنیا میں تیل کی کھپت میں اچانک کمی ہو گئی ہے یا تیل کی پیداوار میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے ؟ یقیناً ایسا کچھ نہیں ہوا تو پھر عالمی منڈی میں تیل کی قیمت حیرت انگیز انداز سے کم کیوں ہوتی جا رہی ہیں؟
    مشہور مصنف اور تاریخ دان ولیم اینگڈال نے اپنے ایک تازہ مضمون میں دعویٰ کیا ہے کہ ماہ ستمبر میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور اعلیٰ ترین سعودی حکام کی ایک خاص ملاقات میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ سعودی عرب مارکیٹ میں سستا تیل بکثرت فراہم کر کے عالمی قیمتوں کو گرا دے تاکہ کچھ انتہائی خاص مقاصد کا حصول ممکن ہو سکے۔
    یہ خاص مقاصد کیا ہیں؟اینگڈال کہتے ہیں کہ دراصل یہ اقدام اس جنگ کا حصہ ہیں جس میں ایک طرف امریکہ اور سعودی عرب ہیں جبکہ دوسری طرف ایران ، شام اور روس ہیں۔ایران اور قطر کے علاقوں میں دنیا کے وسیع تر گیس کے ذخائر موجود ہیں اور ایک طرف ایران یہ کوشش کر رہا ہے کہ براستہ شام اور لبنان اپنی گیس یورپ کو فروخت کرے جبکہ دوسری طرف قطر کی خواہش ہے کہ براستہ شام اور ترکی اپنی گیس یورپ کی وسیع مارکیٹ میں پہنچائے۔
    روس کی کل آمدنی کا 50 فیصد سے زائد گیس کی فروخت سے حاصل ہوتا ہے اور یہ ملک بھی براستہ یوکرین یورپ کو گیس کی زیادہ سے زیادہ فروخت چاہتا ہے۔اب صورتحال یہ ہے کہ شامی صدر بشارالاسد ایران اور روس کے قریب ہیں لہذا ان کا اقتدار ایران اور روس کی گیس کو یورپ پہنچانے کے لیے مدد گار ثابت ہو سکتا ہے،جبکہ دوسری جانب امریکہ روس اور ایران کی کمر توڑنا چاہتا ہے تاکہ اس کے دوست قطر اور سعودی عرب کی گیس یورپ پہنچے اور امریکہ کے عالمی غلبے کی راہ میں حائل روسی رکاوٹ کو بھی ختم کیا جا سکے۔
    یہی وجہ ہے کہ ایک طرف تو روس اور ایران کی معیشت کو نقصان پہنچانے کے لیے تیل سستا کرنا ضروری ہے تاکہ ان دونوں ممالک کی تیل کی تجارت کو تباہ کیا جا سکے اور دوسری طرف شامی صدر بشارالاسد کے اقتدار کا خاتمہ ضروری ہے تاکہ امریکہ ، سعودی عرب اور قطر کی حمایت یافتہ حکومت قائم کر کے ان ممالک کے معاشی و سیاسی مفادات کو تحفظ دیا جا سکے۔
    اینگڈال کہتے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کے تعاون سے شام میں باغیوں کی پشت پناہی کا بھی یہی مقصد ہے کہ بشارالاسد کو بھی لیبیا کے سابق صدر معمر قذافی جیسے انجام سے دوچار کیا جا سکے۔اپنے طویل مضمون کے آخر میں وہ امریکہ اور اس کے دوستوں کے منصوبے کو حماقت قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس طرح روس چین اور دیگر ایشیائی ممالک کے مزید قریب ہو گا اور مغربی ممالک سے تیل کی تجارت پر انحصار کم کر کے ممکنہ خطرات سے محفوظ رہے گا البتہ اس منصوبے کا یہ نتیجہ ضرور ہو گا کہ مشرق وسطیٰ میں بوئے جانے والے نفرت کے بیج خود امریکہ اور اس کے دوستوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوں گے۔

    RELATED POSTS