Friday, 31 October 2014

امریکی بحری بیڑا شمالی کوریا کی سمندری حدود کے قریب پہنچ گیا

News

امریکی بحری بیڑا شمالی کوریا کی سمندری حدود کے قریب پہنچ گیا

    واشنگٹن/ پیانگ یانگ(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکہ نے اپنا بحری جہاز شمالی کوریا کی سمندری حدود کے قریب تعینات کر دیا ہے۔ جاپان میں تعینات امریکی بحری جہاز یو ایس ایس فٹز جیرالڈ حال ہی میں فوجی مشقوں میں حصہ لینے جنوبی کوریا گیا تھا لیکن اسے جاپان واپس بلانے کے بجائے شمالی کوریا کی سمندری حدود کے قریب متعین کر دیا گیا ہے۔ امریکی عہدے دار کے مطابق اگر شمالی کوریا نے امریکا پر میزائل حملے کی دھمکی پر عمل کیا تو یو ایس ایس فٹز جیرالڈ اس کے میزائلوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے دھمکی آمیز رویے کو سنجیدگی سے لے رہا ہے تاہم اس رویے کے باوجود ان کے فوجی ڈھانچے میں کوئی بڑی تبدیلی نظر نہیں آرہی۔ ادھر جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت کے حامل امریکی طیاروں کی جزیرہ نما کوریا پر پروازوں کے بعد سے خطے میں کشیدگی ایک مرتبہ پھر بڑھ گئی ہے۔ شمالی کوریا نے اس اقدام کے جواب میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ وائٹ ہاو¿س کے ترجمان جے کارنے صحافیوں سے بات چیت میں کہا: '' پیانگ یانگ کی جانب سے یہ تلخ و دھمکی آمیز رویہ سننے کے باوجود ہم شمالی کوریا کی فوج کی حالت میں کوئی تبدیلی ہوتی نہیں دیکھ رہے، جیسا کہ بڑے پیمانے پر فوجیوں کی نقل و حرکت وغیرہ۔جے کارنے کہا کہ اس دھمکی آمیز رویے کو سہارا دینے کے قابل اقدامات دیکھنے میں نہیں آرہے۔ '' دھمکی اور عمل کے درمیان یہ فرق کیا معنی رکھتا ہے یہ میں تجزیہ کاروں پر چھوڑتا ہوں۔'' واشنگٹن پہلے ہی پیانگ یانگ کو خبردار کر چکا ہے کہ امریکہ خطے میں اپنے اتحادیوں کی سلامتی کے لیے فوری اقدامات کرے گا۔ اس سے قبل امریکہ نے طاقت کے مظاہرے کے طور پر جوہری ہھتیار لے جانے کی صلاحیت کے حامل دو بی ٹو طیارے 13 ہزار کلومیٹر کے دو طرفہ سفر پر ریاست میسوری کے فوجی اڈے سے سیول اور پھر واپس میسوری تک بھیجے۔ شمالی کوریا کی حکومت امریکی رویے کو جارحانہ اور حملے کی تیاری قرار دے رہی ہے۔

    RELATED POSTS