وہ انوکھا آدمی جس نے 40سال سے مسلسل ہاتھ اُٹھا رکھا ہے
نیو دہلی ( نیوز ڈیسک ) بھارت کے کچھ ہندو سادھو ؤں نے اپنے دیوتا شیوا کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی کی رسم کو عجیب و غریب انتہا کو پہنچا دیا۔سادھو امر بھارتی نے 1970 میں عہد کیا کہ وہ اپنی زندگی دیوتا شیوا کے لیے وقف کر دے گا اور اس کے بعد وہ مذہبی رسومات کی ادائیگی اور شیوا کی تعلیمات پر عمل کرنے کی عمل کرنے کی بھرپور کوشش میں لگ گیا۔
جب 1973 میں سادھو جی کو محسوس ہوا کہ وہ مکمل طور پر خود کو وقف نہیں کر پائے تو انہوں نے ایک نہ سمجھ آنے والا فیصلہ کیا اور اپنا دایاں ہاتھ ہمیشہ کے لیے دیوتا شیوا کی خدمت میں پھیلا دیا۔سادھو کا کہنا ہے کہ آج اس فیصلے کو 31 سال گزر چکے ہیں اور ان کا دایاں بازو مسلسل ہوا میں بلند رہتا ہے۔
انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ابتداءمیں انہیں ہاتھ اور بازو کے سن ہونے اور شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑا لیکن پھر یہ مسئلہ ختم ہو گیا اور اب بازو بغیر کسی کوشش کے خود ہی فضاءمیں بلند رہتا ہے۔ان تمام سالوں میں انہوں نے دائیں ہاتھ کے ناخن بھی نہیں کاٹے اور اب یہ کئی انچ لمبے اور سیاہ ہو چکے ہیں۔
ان کی دیکھا دیکھی کئی چیلوںنے بھی یہی عمل شروع کر دیا ہے اور چند ایک نے تو 10 سال سے شیوا کے سامنے ہاتھ پھیلا رکھا ہے۔
جب 1973 میں سادھو جی کو محسوس ہوا کہ وہ مکمل طور پر خود کو وقف نہیں کر پائے تو انہوں نے ایک نہ سمجھ آنے والا فیصلہ کیا اور اپنا دایاں ہاتھ ہمیشہ کے لیے دیوتا شیوا کی خدمت میں پھیلا دیا۔سادھو کا کہنا ہے کہ آج اس فیصلے کو 31 سال گزر چکے ہیں اور ان کا دایاں بازو مسلسل ہوا میں بلند رہتا ہے۔
انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ابتداءمیں انہیں ہاتھ اور بازو کے سن ہونے اور شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑا لیکن پھر یہ مسئلہ ختم ہو گیا اور اب بازو بغیر کسی کوشش کے خود ہی فضاءمیں بلند رہتا ہے۔ان تمام سالوں میں انہوں نے دائیں ہاتھ کے ناخن بھی نہیں کاٹے اور اب یہ کئی انچ لمبے اور سیاہ ہو چکے ہیں۔
ان کی دیکھا دیکھی کئی چیلوںنے بھی یہی عمل شروع کر دیا ہے اور چند ایک نے تو 10 سال سے شیوا کے سامنے ہاتھ پھیلا رکھا ہے۔