نیکی کرنے والے کو امریکی پولیس نے جیل میں ڈال دیا
نیویارک ( نیوز ڈیسک ) امریکی شہر فورٹ لاڈر ڈیل میں ایک 90 سالہ بزرگ شہری کو بے گھر لوگوں کو کھاناکھلانے کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہیں جرمانے کے علاوہ قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔
آرنلڈ ایبٹ نامی یہ بزرگ ایک پارک میں بھوکے اور غریب لوگوں کو کھانا کھلا رہے تھے کہ پولیس کو خبر ہو گئے۔شہر میں چند دن پہلے ایک نیا قانون نافذ کیا جا چکا ہے جس کے مطابق غربا و مساکین کو کھانا کھلانے والے کو جیل ہو گی۔
آرنلڈ کھانا تقسیم کر نے میں مصروف تھے کہ پولیس پہنچ گئی اور غصیلے سپاہی نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے ہاتھ میں پکڑی پلیٹ فوری طور پر نیچے رکھ دیں۔یہ حکم بالکل ایسے ہی لہجے میں دیا گیا جیسے پولیس مجرموں کو اپنے ہتھیار گرانے کا حکم دیتی ہے۔اس کے بعد بزرگ شہری کو گرفتار کر کے تھانے لے جایا گیا۔
قانونی ماہرین کے مطابق انہیں 500 ڈالر ( تقریباً 50 ہزار پاکستانی روپے) جرمانہ اور دو ماہ قید ہو سکتی ہے۔
آرنلڈ کا کہنا ہے کہ وہ پہلے بھی حکام کی خلاف قانونی جنگ لڑ چکے ہیںاور اب بھی وہ غرباءکی مدد چھوڑنے کی بجائے قانونی جنگ لڑیں گے۔
آرنلڈ ایبٹ نامی یہ بزرگ ایک پارک میں بھوکے اور غریب لوگوں کو کھانا کھلا رہے تھے کہ پولیس کو خبر ہو گئے۔شہر میں چند دن پہلے ایک نیا قانون نافذ کیا جا چکا ہے جس کے مطابق غربا و مساکین کو کھانا کھلانے والے کو جیل ہو گی۔
آرنلڈ کھانا تقسیم کر نے میں مصروف تھے کہ پولیس پہنچ گئی اور غصیلے سپاہی نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے ہاتھ میں پکڑی پلیٹ فوری طور پر نیچے رکھ دیں۔یہ حکم بالکل ایسے ہی لہجے میں دیا گیا جیسے پولیس مجرموں کو اپنے ہتھیار گرانے کا حکم دیتی ہے۔اس کے بعد بزرگ شہری کو گرفتار کر کے تھانے لے جایا گیا۔
قانونی ماہرین کے مطابق انہیں 500 ڈالر ( تقریباً 50 ہزار پاکستانی روپے) جرمانہ اور دو ماہ قید ہو سکتی ہے۔
آرنلڈ کا کہنا ہے کہ وہ پہلے بھی حکام کی خلاف قانونی جنگ لڑ چکے ہیںاور اب بھی وہ غرباءکی مدد چھوڑنے کی بجائے قانونی جنگ لڑیں گے۔