Sunday, 2 November 2014

واہگہ بارڈر پر خود کش حملہ ،آئی جی پنجاب نے رینجرز اہلکار وں سمیت48 ہلاکتوں کی تصدیق کر

News

واہگہ بارڈر پر خود کش حملہ ،آئی جی پنجاب نے رینجرز اہلکار وں سمیت48 ہلاکتوں کی تصدیق کر 

    لاہور ( مانیٹرنگ ڈیسک ) واہگہ بارڈر پر خود کش حملے سے 2 رینجرز اہلکاروں سمیت  کم ازکم48 افراد جاں بحق اور  درجنوں  افراد زخمی ہوگئے ہیں۔آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا نے خود کش دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب لوگ پریڈ دیکھ کر باہر آ رہے تھے۔ابتدائی معلومات کے مطابق آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ 18 سے 20 سال کی عمر کے خود کش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔
    آئی جی پنجاب نے اس بات کا بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دھماکے میں 5  کلو بارودی مواد استعمال ہوا ہے۔
    دھماکے کے مقام کے بارے میں آئی جی پنجاب نے تصدیق کی ہے کہ دھماکہ پارکنگ میں اس وقت ہوا جب لوگ پریڈ دیکھ کر باہر آ رہے تھے۔اور وہاں سیکورٹی اہلکار بھی موجود تھے۔دھماکے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق بارودی مواد میں بال بیرنگ کثیر تعداد میں استعمال کیے گئے جس کے باعث دھماکے کی شدت بہت زیادہ تھی۔
    ذرائع کا کہنا ہے کہ خود کش حملہ آور پریڈ ختم ہونے کا انتظار کر رہا تھا اور پریڈ ختم ہونے کے بعد اس نے رش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
     ایم ایس گھرکی ہسپتال ڈاکٹر افتخار نے 48 لاشوں کے ہسپتال لانے کی تصدیق کی ہے،جبکہ 100 کے قریب زخمیوں کو بھی گھرکی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔جاں بحق افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، اور  زخمیوں کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث  ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کردیا۔جبکہ دھماکے میں ایک ہی خاندان کے 8 افراد کے جاں بحق ہوئے ہیں۔
    دھماکے کے باعث واہگہ بارڈر چیک پوسٹ کے ارد گرد موجود متعدد عارضی دکانوں کو نقصان بھی پہنچا ہے جبکہ رینجرز اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔نجی ٹی وی چینل ڈان نیوز کے مطابق دھماکے کے مقام کے قریب اسلحہ کا ڈپو بھی موجود ہے جس کے باعث زیادہ نقصان کا خدشہ بھی ہے۔
    گھرکی ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جبکہ کئی زخمیوں کوشالامار ہسپتال منتقل کیاجارہاہے ۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق ایمبولینسیں مسلسل زخمیوں کو لارہی ہیں اور زخمیوں کی کثیر تعداد کی وجہ سےامدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامناہے ۔جبکہ ہسپتال میں جگہ کم ہونے کے باعث زخمیوں کو دوسرے ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
    دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب نے قیمتی جانوں کے نقصان پر افسوس کااظہار کرتے ہوئے بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کردی اور دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ۔جبکہ ملک کی تمام سیاسی اور سماجی قد آور شخصیات نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

    RELATED POSTS