Saturday, 29 November 2014

چوروں نے خزانے کی تلاش میں مغل شہنشا اکبر کے چیف جسٹس کی قبر کھود ڈالی

News

چوروں نے خزانے کی تلاش میں مغل شہنشا اکبر کے چیف جسٹس کی قبر کھود ڈالی

    گوجرانوالہ (ویب ڈیسک) گوجرانوالہ کے نواحی گاﺅں کوٹلی مقبرہ میں مغل اعظم شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کے قاضی القضا شیخ عبدالنبی کا پرشکوہ مقبرہ ہے جو مغل شہنشاہ اکبر کے حکم پر چونا، ماش کی دال اور کیمیائی مادوں کا آمیزہ گوندھ کر چھوٹئی اینٹوں سے بہت بڑے پلیٹ فارم پر تیار کیا گیا۔ کبھی یہ مقبرہ مغلہ فن تعمیر کا انمول شاہکار تھا لیکن آج کل زمانے کی وسعت برد اور چوروں کی لوٹ کھسوٹ کا منہ بولتا ثبوت بن کے رہ گیا ہے۔ مقبرے کے بہت بڑے گنبد اور اونچے میناروں پر مبینہ طور پر سونے چاندی کے کلس لگے ہوئے تھے اور مشہور تھا کہ مزار کے زیریں حصے میں موجود قبروں میں بیش بہا خزانہ دفن ہے۔ کچھ عرصہ پہلے محکمہ اوقاف کے ملازمین کا روپ دھارے چند لوگ یہاں آئے اور مزار کے قریب ریت اور سریے کی ٹرالیاں اتروا کر نیز مقبرہ کے اردگرد شٹرنگ کرواکر بظاہر مقبرہ کی تزئین و آرائش کا کام شروع کردیا اور پھر ایک رات اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مزار کے منقش دروازے، نقش و نگار والے قیمتی پتھر، گنبد اور میناروں کی کلس اور دیگر بیش قیمت جڑاﺅ سامان اتار کر رفوچر ہوگئے۔ چوروں نے مبینہ خزانے کی تلاش میں قاضی القضا کی قبر تک کھود ڈالی۔ کوٹلی مقبرہ کے باسیوں کا مطالبہ ہے کہ مقبرہ کی تاریخی عمارت کو اوقاف کے حوالے کیا جائے اور اس کی تزئین نوکرکے اسے تفریح مقام کی حیثیت دی دی جائے تاکہ تاریخی ورثہ محفوظ اور حکومت کی آمدنی کا ذریعہ بن سکے۔

    RELATED POSTS