اسلام آباد آرمی میڈیکل کور کے سابق ڈسپنسر عقیل عرف عثمان اور سابق فوجی نائیک ارشد محمود کو پھانسی چڑھا دیا گیا جبکہ کم ازکم 18مزید دہشت گرد جنہیں انسداد دہشت گردی عدالتوں یا فوجی عدالتوں نے سزائے موت سنائی ہے آئند ہ چند روز میں تختہ دار پر چڑھا دیے جائیں گے ۔ذرائع کے مطابق 18مزیددہشت گردوںکو جن میں اکثر کا تعلق لشکر جھنکوی اور جیش محمد سے ہے ایک ہفتے کے اندر اندر تختہ دار پر چڑھایاجائے گا۔ان دہشتگردوں کے ڈیتھ وارنٹ آئندہ 48گھنٹوں میں متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کر دیے جائیں گے جس سے انہیں پھانسی پر لٹکانے کی راہ ہمور ہے ۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے 6دہشت گردوں کے ڈیتھ وارنٹ دستخط کیے تھے ان میں شامل دو افراد ڈاکٹر عثما ن اور ارشد محمود کو پھانسی دے دی گئی جبکہ باقی چار (سویلین ہونے کے باوجود ان کا کورٹ مارشل کیا گیا )افرادکو آئندہ چند روز میں پھانسی دےدی جائے گی ۔ان چار سویلین میں زبیر احمد ،رشید قریشی ،غلام سرور بھٹی اور اخلاق احمد (روسی شہری)شامل ہیں اور انہیںبھی فیصل آباد جیل میں رکھا گیاہے ۔ان افراد پر سابق صدر اور سابق آرمی چیف جنرل پر ویز مشرف پر حملے کا الزام ہے۔پھانسی کے منتظر مزید 2افراد میں منظور احمد اورنیاز محمد شامل ہیں جو دسمبر 2003میں سابق صدر جنرل (ر)پر ویز مشرف پر دوسرے حملے میں ملوث ہیں ۔دونوں افراد اس وقت اڈیلالہ جیل میں قید ہیں ۔ایک اور دہشت گرد ملک نور محمد بادشاہ کوآئندہ چند روز میں پھانسی دی جائے گی ،نور محمد بادشاہ سابق وزیراعظم شوکت عزیز پر جوالائی 2004میں فتح جنگ میں حملے کاماسٹرمائنڈ ہے ۔نور محمد بادشاہ ہر پور سینٹر ل جیل میں قید ہے ۔مزید تین دہشت گردوں کو لاہور میں تختہ دار پر لٹکایا جائے گا جو گجرات کے قریب فوجی کیمپ ہر حملے میں ملوث ہیں ان دہشت گردوں میں محمد کامران ، احسن عثیم اوعر عمر ندیم شامل ہیں ۔مزید 8افراد کو بھی پھانسی دی جائے گی اور ان کے ڈیتھ وارنٹ 76گھنٹوںکے اندرجاری ہو سکتے ہیں ،ان میں محمد اعظم ،عطاللہ ،بہرام خان ،عبدالرزاق ،محمد علی ،عبدالجلال ،زاہد عرف زادہ اورسفقت حسین شامل ہیں ۔پاکستانی حکام نے اسلام آباد کے سفارتی حلقوں کی جانب سے شدید دباﺅ میں ہیں کہ پر امریکی صحافی ڈئنیل پرل احمد عمر سعیدکوبھی پھانسی دے دی جائے ۔ڈئینل پر ل کے قتل میں سعید احمد اور اسے کے تین ساتھی فہد نسیم ،سلمان ثاقب اورشیخ عدیل پر کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں 22اپریل 2002کو کاررواءشروع کی گئی ۔شیخ احمد عمر سعید کو سزائے موت سنائی گئی جبکہ تین ساتھیوں کو عمر قید کی سزا ملی تاہم سندھ ہائیکورٹ نے ان قاتلوں کے اپیل پر سزا کے خلاف حتمی فیصلہ سنایا۔
