Friday, 19 December 2014

سانحہ پشاور ،وہ بچہ جس کی ساری کلاس شہید ہو گئی اور وہ اکیلا ہی بچ گیا

News
 دہشتگردی کے ہولناک سانحے کے بعد جب آرمی پبلک سکول پشاور دوبارہ کھلے گا تو اس کے 132 ہنستے مسکراتے طلباءکی غیر حاضری ایک اور دردناک منظر ہوگا اور کوئی اس المناک منظر کو کیسے دیکھ پائے گا کہ اس سکول کی ساری کی ساری نویں کلاس اب کبھی نہیں لوٹے گی۔
وحشی درندوں نے اس ساری کلاس کو ہی گولیوں سے چھلنی کر ڈالا اور اس کا صرف ایک طالب علم زندہ بچا ہے کیونکہ وہ حملے کے دن غیر حاضر تھا۔ پندرہ سالہ داﺅد تاخیر سے سویا تھا اور صبح الارم بھی خاموش رہا جس کی وجہ سے وہ بروقت جاگ نہ پایا۔ داﺅد ایک باہمت اور ہنس مکھ شخصیت کا مالک ہے لیکن عزیز دوستوں کے لہو لہان لاشے دیکھ کر اس پر گہری خاموشی طاری ہے۔ اس کے بڑے بھائی سفیان کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل دوستوں کے جنازوں میں شرکت کرتا رہا ہے اور غم سے نڈھال ہے۔ داﺅد خاموش ضرور ہے لیکن اس کی خاموشی چیخ چیخ کر اپنے شہید دوستوں اور اساتذہ کے خون کا حساب مانگ رہی ہے۔

RELATED POSTS