ہفتے کو بھبنشور کے کلنگا سٹیڈیم میں چیمپیئنز ٹرافی کے دوسرے سیمی فائنل میں پاکستان نے بھارت کو ہاکی میں چار گول کرکے بھارتی سرزمین پر اپنی تاریخ کی دوسری سب سے بڑی فتح کا علم گاڑا ہے۔ پاکستان سے میچ ہارنے کے بعد بھارتی ٹیم کے کھلاڑیوں کی حفاظت انتظامیہ کیلئے مسئلہ بن گئی۔ قبل ازیں 1982ءمیں پاکستان کی ہاکی ٹیم نے بھارت کے خلاف نئی دہلی میں سات گول کئے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بال ٹھاکرے زندہ تھا اور اس نے پاکستان کی ٹیم کے بھارت میں کھیلنے کے خلاف سخت مزاحمت شروع کررکھی تھی۔ پاکستان کی ٹیم نے بال ٹھاکرے کی دھمکیوں کے جواب میں زبردست کھیل کا مظاہرہ کیا اور بھارتی تماشائی پہلے تو دم بخود ہوئے اور پھر میچ ختم ہونے سے پہلے ہی سٹیڈیم تماشائیوں سے خالی ہوگیا۔ اس میچ کے بعد ممبئی اور دوسرے شہروں میں جگہ جگہ بھارتی ٹیم کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ ہفتے کے میچ میں بھارتی تماشائیوں کا رویہ کھیل شروع ہونے سے پہلے ہی معاندانہ تھا وہ پاکستان کے خلاف لگاتار نعرے لگارہے تھے۔
بھارت کی ہاکی ٹیم میں طویل عرصے کے بعد ایک بھی مسلمان کھلاڑی شامل نہیں ہے، نئے بھارتی حکمرانوں نے جس حکمت عملی پر کام شروع کررکھا ہے اس کی رو سے بھارت میں پہلے سے بدترین پسماندگی کا شکار مسلمانوں کو مزید ابتری میں مبتلا کیا جارہا ہے انہیں شدھی کرنے کی مہم چل رہی ہے جس کی رو سے انہیں اپنا مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان سے میچ ہارجانے کے بعد بھارتی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کی حفاظت انتظامیہ کے لئے مسئلہ بن گئی، ان کھلاڑیوں کو انتہا پسند ہندو افراد کی جانب سے مسلسل پیغامات مل رہے ہیں کہ انہیں زندہ نہیں چھوڑا جائے گا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت میں پاکستان کے وجود سے نفرت کس حد تک بڑھ چکی ہے اور کھیل کے میدان میں پاکتان کا سرخ رو ہونا بھی بھارتیوں کے لئے برداشت کرنا دشوار ہوگیا ہے
