سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی کی ترقی اب اسی دور میں داخل ہوگئی ہے کہ عین ممکن ہے کہ عنقریب آپ جہاز کے سفر پر جائیں تو آپ کے ساتھ والی سیٹ پر انسان کی بجائے کوئی روبوٹ خاموشی سے بیٹھا آپ کو گھور رہا ہو۔ اگرچہ ابھی زیادہ تر مسافروں کو اس کا تجربہ ہونے میں کچھ سال لگ سکتے ہیں لیکن امریکی شہر لاس اینجلس سے جرمن شہر فرینکفرٹ جانے والی ایک پرواز کے مسافروں کو یہ تجربہ ہو بھی چکا ہے۔
ٹام بریڈلی ائیرپورٹ پر سب مسافر اس وقت حیران رہ گئے جب ٹکٹ کی قطار میں ان کے ساتھ ایک روبوٹ بھی آن کھڑا ہوا۔ ایتھینا (Athena) نامی اس روبوٹ کو وہیل چیئر پر بٹھا کر لایا گیا اور عام مسافروں کی طرح اس نے ٹکٹ بھی لیا اور اس کے بعد اکانومی کلاس میں سوار ہوکر جرمنی کا سفر بھی کیا۔ روبوٹ کو کسی بھی عام مسافر کی طرح سیٹ پر بٹھایا گیا تھا اور اس کے ساتھ والی سیٹ پر اس کے ساتھی سائنسدان پروفیسر کیسلز بیٹھے تھے۔ اس روبوٹ کو امریکی کمپنی Sarcosسے جرمنی کی میکس پلانک سوسائٹی نے خریدا ہے جہاں اس کی ٹانگوں اور دیگر اعضاءکو حرکت دینے والا سافٹ ویئر تیار کیا جارہا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اسے ایسے خطرناک حالات اور جگہوں پر کام کرنے کیلئے تیار کیا جائے گا جہاں انسانوں کا جانا ممکن نہیں، مثلاً نیوکلیئر حادثے کی جگہ۔ پروفیسر کیسلز کا کہنا ہے کہ روبوٹ کو ڈبے میں بند کرکے بھی لے جایا جاسکتا تھا لیکن اسے عام مسافر کی طرح لے جانے کا مقصد یہ جاننا تھا کہ انسان اسے اپنے ساتھ مسافر کے طور پر دیکھ کر کیسا محسوس کرتے ہیں۔
