کراکس (نیوز ڈیسک) دنیا کے متعدد ممالک کی خواتین مس ورلڈ بننے کے خواب دیکھتی ہیں لیکن جنوبی امریکا کے ملک وینزویلا میں یہ شوق جنون کی حدوں سے بھی گزرچکا ہے اور والدین اپنی چار سالہ بیٹیوں کو ہی مستقبل میں مس ورلڈ بنانے کیلئے ان کی سخت تربیت اور آزمائشیں شروع کردیتے ہیں۔
اس ملک میں غربت عام ہونے کی وجہ سے لوگوں نے بیٹیوں کو زیادہ سے زیادہ خوبصورت بنا کر ان کی زندگی سنوارنے کا طریقہ اپنالیا ہے۔ لڑکیوں کو خوبصورت سے خوبصورت بنانے کی مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ ابتک 6 مس ورلڈ، 7 مس یونیورس، 6 مس انٹرنیشنل اور 2 مس ارتھ خطابات اس ملک نے جیتے ہیں۔
لڑکیوں کو خوبصورتی کے عالمی مقابلوں کی فاتح بنانے کیلئے ان کے ساتھ غیر انسانی حد تک ناقابل یقین سلوک کیا جاتا ہے۔
لڑکیوں کو خوبصورتی کے عالمی مقابلوں کی فاتح بنانے کیلئے ان کے ساتھ غیر انسانی حد تک ناقابل یقین سلوک کیا جاتا ہے۔
یہاں لوگ چار سال کی بچیوں کو بیوٹی سکولوں میں داخل کروادیتے ہیں جہاں انہیں مخصوص خوراک دی جاتی ہے اور ورزشیں کروائی جاتی ہیں۔ بارہ سال کی عمر میں ان کے کولہوں کو نمایاں کرنے کیلئے آپریشن کرکے ان میں مائع سیلیکون ڈالی جاتی ہے اور 15 یا 16 سال کی عمر میں ایک آپریشن کے ذریعے آنتوں کا کچھ حصہ کاٹ کر نکال دیا جاتا ہے تاکہ خوراک پوری طرح جسم میں جذب ہوئے بغیر باہر نکل جائے اور وزن میں اضافہ نہ ہو۔ اسی طرح ایک اور ظالمانہ آپریشن کے ذریعے لڑکیوں کی زبان پر اسفنج نما مادہ سلائی کردیا جاتا ہے تاکہ یہ ٹھوس اشیاءنہ کھاسکیں۔ اس قدر بے رحمانہ مراحل سے گزارنے کے بعد ہزاروں لاکھوں لڑکیاں مقابلہ کرتی ہیں لیکن ان میں سے ایک کو ہی ملکہ کا اعزاز ملتا ہے۔ دنیا بھر کے ماہرین صحت کی بار بار کی وارننگ کے باوجود ان لوگوں کا جنون جاری ہے۔